کراچی:

اسکردو کے بین الاقوامی ہوائی اڈے نے نیاسنگ میل عبور کرلیا، جہاں ایک دن میں 7 طیاروں نے رن وے پر لینڈ کیا ہے۔

پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی کے مطابق جمعرات کو اسکردو انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے ایک دن میں 14 (دو طرفہ) پروازیں آپریٹ ہوئیں۔

اعلامیے کے مطابق اسلام آباد، کراچی اور لاہور سے اسکردو کے لیے پروازیں اڑی۔ جن میں سے پی آئی اے کی 4 اور ایئر بلیو کی 3 پروازیں اسکردو پہنچیں۔  اس کے علاوہ ایک فوجی جہاز کی بھی آمد و رفت ہوئی ہے۔

پی اے اے حکام کے مطابق اسکردو میں بڑھتی پروازیں سیاحت اور معیشت کے نئے دور کے آغاز کی عکاس ہیں۔

اس سے پہلے کتنی پروازوں کا ریکارڈ تھا؟

پی اے اے ترجمان سیف اللہ نے بتایا کہ اس سے قبل زیادہ سے زیادہ ایک دن میں چھ پروازوں کی لینڈنگ  اور ٹیک آف ہوچکا ہے اور یہ جولائی 2023 میں ہوا تھا، جبکہ عام طور پر اس ایئرپورٹ سے دن میں ایک سے تین فلائٹس آپریٹ ہوتی ہیں۔

انہوں نے اس کی وجہ بہتر موسم کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’جب موسم بہتر ہوتا ہے تو پروازوں کیلیے مشکل نہیں ہوتی تاہم اگر آبر آلو یا بارش کے اثار ہوں تو بھی بعض اوقات پروازیں منسوخ بھی ہوجاتی ہیں‘۔

اسکردو ایئرپورٹ پر بین الاقوامی پرواز

واضح رہے کہ ہزاروں فٹ پہاڑوں کے سنگم میں واقع اسکردو ایئرپورٹ کو شاہکار بھی قرار دیا جاتا ہے جو پاکستان میں مقامی اور عالمی سیاحت کے فروغ کا ایک اہم مرکز ہے۔

زمینی راستے کی مسافت کتنی ہے؟

سیاح اگر اسلام آباد سے زمینی راستے کے اسکردو جائیں تو اس کا فاصلہ تقریبا 603 کلومیٹر بنتا ہے جس کو طے کرنے میں کم از کم 14 گھنٹے لگتے ہیں۔

 اگر موسم خراب یا پھر سڑک کی بندش ہوجائے تو پھر اسکردو کی منزل تک پہنچنے میں دو سے تین دن بھی لگ سکتے ہیں۔

اسکردو ایئرپورٹ کیلیے مستقبل کا منصوبہ

پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سیاحوں کی بڑھتی دلچسپی اور توجہ کو دیکھتے ہوئے بہت جلد اسکردو ایئرپورٹ پر مسافر ٹرمینل بلڈنگ کو اپ گرڈ کیا جائے گا، جس کے بعد سالانہ دس لاکھ لوگوں کی سہولیات کے ساتھ آمد و رفت ممکن ہوگی جبکہ سیاحت کو بھی فروغ ملے گا۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اسکردو ایئرپورٹ ایک دن میں

پڑھیں:

پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع

حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔

ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔

سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس