’القابل گاؤں‘ کھجوروں کا نخلستان اور مٹی کے مکانات کا مسکن
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
سعودی عرب کے جنوبی شہر نجراں میں واقع ’القابل گاؤں‘ ایک ایسا تاریخی مقام ہے جو اپنے دامن میں قدیم تمدن، ثقافت اور فن تعمیر کی دل آویز کہانی سمیٹے ہوئے ہے۔ یہ گاؤں نہ صرف صدیوں پرانی کھجوروں کے نخلستان کا حامل ہے بلکہ اس کے مٹی سے بنے قدیمی مکانات آج بھی عرب تہذیب کی اصالت اور شناخت کا مظہر ہیں۔
تاریخی کنویں اور قدیمی سرحدیںالقابل گاؤں کا بنیادی حسن اس کے وہ قدیم کنویں ہیں جنہوں نے کبھی اس بستی میں زندگی کی لَوریاں دی تھیں۔ یہ کنویں مشرق میں واقع الحسین فارموں سے شروع ہو کر مغرب میں الجربہ گاؤں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ جنوب میں اسے تاریخی مقام الاخدود سے جوڑا جاتا ہے، جبکہ شمال کی جانب وادیِ نجراں کے کنارے تک یہ بستی اپنی وسعتیں لیے موجود ہے، یوں گویا یہ گاؤں تاریخ اور جغرافیہ کا ایک خوبصورت مصورانہ امتزاج پیش کرتا ہے۔
نجراں آثارِ قدیمہ و تاریخ سوسائٹی کے سربراہ محمد الحتیلہ کے مطابق، القابل گاؤں اپنی طویل تاریخی اہمیت کے باعث ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں موجود کچھ مٹی سے بنے محلات (قصر) کی تعمیر 350 سال سے زائد پرانی ہے۔
مزید پڑھیں:چترال کا پرامن گاؤں جہاں چیونٹی بھی محفوظ، مگر بھائی کے ہاتھوں بھائی کا قتل کیسےہوا؟
یہاں 200 سے زائد مٹی کے مکانات موجود ہیں، جو مختلف ادوار، اونچائیوں اور فن تعمیر کے انداز کی نمائندگی کرتے ہیں، اور نجراں کے قدیم طرزِ تعمیر کے حسن کو نمایاں کرتے ہیں۔
تاریخی کنویں اور کھجوروں کا جمالیاتی امتزاجگاؤں میں تہہ دار (فولڈڈ) کنویں موجود ہیں جن کے گرد قدیم کھجوروں کے درخت ایستادہ ہیں۔ یہ مناظر نہ صرف معماری حسن کو جِلا دیتے ہیں بلکہ یہی عناصر اس گاؤں کو آثاریاتی اہمیت کے حامل علاقوں میں شامل کرتے ہیں۔ اس خطے کی 34 وراثتی بستیوں میں سب سے معروف گاؤں اللجام ہے۔
محمد الحتیلہ کے مطابق، اللجام گاؤں اپنے صدیوں پرانے مٹی کے محلات کے لیے مشہور ہے، جہاں 20 سے زائد مکانات مختلف تعمیراتی انداز کی مثالیں پیش کرتے ہیں۔ یہاں کے ’الدروب‘ نامی مکانات اپنے بلند و بالا گنبدوں کے ساتھ وادیِ نجراں کے کناروں پر ایستادہ ہیں، جو نہ صرف شہری شناخت کو اجاگر کرتے ہیں بلکہ سعودی عرب کی گہری ثقافتی وراثت کا عکس بھی ہیں۔
مزید پڑھیں: برطانیہ کے ایک گاؤں سے ملنے والی 4 ہزار سال پرانی ہڈیوں نے دلچسپ حقائق بیان کردئیے
القابل کے رہائشیوں کا فخرگاؤں کے مکین محمد بالحارث کا کہنا ہے کہ یہاں کے لوگ اپنے مٹی کے مکانات کو محفوظ رکھنے اور بحال کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں کیونکہ یہ مکانات نہ صرف ان کی تاریخ بلکہ تہذیبی میراث کی علامت ہیں۔
انہوں نے القابل میں مشہور روایتی طرزِ تعمیر جیسے: المربع، المشلّق اور المقدم کا حوالہ دیا، جو یہاں کے کھجوروں کے پرانے فارموں کے ساتھ مل کر ایک منفرد شناخت قائم کرتے ہیں۔
تاریخی کنویں اور قدیمی بازارمحمد بالحارث نے جمعرات کے پرانے بازار کی حدود اور اس کے گرد واقع دیگر تاریخی دیہات جیسے الجدیدہ اور بیحان کا ذکر بھی کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے القابل کے ان قدیم کنوؤں کے نام گنوائے جن کی تاریخی اہمیت آج بھی قائم ہے، جیسےام الزاویہ، بہجہ، الصروف، رقیبہ، الزجاج، اور سعیدہ وغیرہ۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
’القابل گاؤں‘ سعودی عرب شہر نجراں کھجوروں کا نخلستان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: القابل گاؤں کھجوروں کا نخلستان القابل گاؤں کرتے ہیں مٹی کے
پڑھیں:
رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
مکہ مکرمہ اور مشاعر مقدسہ کے لیے قائم رائل کمیشن نے شہر کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے کے لیے ایک نئی آگاہی مہم کا آغاز کیا ہے۔
مذکورہ مہم کا مقصد زائرین اور سیاحوں کو مکہ کے تاریخی مقامات، ان کی مذہبی، تہذیبی اور تمدنی اہمیت سے روشناس کرانا اور انہیں شہر کے عظیم ورثے سے مزید قریب لانا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق، یہ تمام اقدامات سعودی وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
’یہ مہم رائل کمیشن کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد تاریخی ورثے کا تحفظ، ثقافتی اقدار کو فروغ دینا اور تاریخی مقامات کو پائیدار تعلیمی اور ثقافتی مراکز میں تبدیل کرنا ہے۔‘
رائل کمیشن کے مطابق اس حکمت عملی کے تحت درجنوں تاریخی مقامات کی بحالی اور ترقی کا کام مکمل کیا جا چکا ہے، جبکہ مکہ کے 60 اہم تاریخی مقامات کی دستاویز بندی بھی کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: مکہ میں ام القریٰ یونیورسٹی کا انقلابی ڈیجیٹل کلچرل منصوبہ، حجاج اور عمرہ زائرین کا سفر اب مزید یادگار
اس کے علاوہ 27 تاریخی مقامات عوام اور زائرین کے لیے کھولے جا چکے ہیں اور سات وزیٹر سینٹرز بھی قائم کیے گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق اب تک ایک کروڑ 75 لاکھ سے زائد افراد ان تاریخی مقامات کا دورہ کر چکے ہیں، جبکہ زائرین کی اطمینان کی شرح 97.5 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
مذکورہ اعدادوشمار فراہم کی جانے والی سہولیات اور تاریخی ورثے کے تحفظ و ترقی کے اقدامات کی کامیابی کی عکاسی کرتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تاریخی مقامات تاریخی ورثے رائل کمیشن زائرین سعودی پریس ایجنسی سعودی عرب سعودی وژن سیاح مکہ مکرمہ