جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘‘ تو کچھ لوگ اپنی متعصبانہ اور تنگ نظر سوچ کی وجہ سے اس بات کا مذاق اڑاتے ہیں اور وہ اپنے اس رویے پر غور بھی نہیں کرتے۔
یہ لوگ تاریخ سے نابلد ہیں۔ انہیں معلوم نہیں کہ انسانی سیاسی تاریخ میں بڑے بڑے رہنما پیدا ہوئے، جو مقبولیت کی انتہا پر تھے اور جنہوں نے تاریخ کی کایا پلٹ دینے والے انقلابات برپا کیے لیکن تاریخ نے وقت کے ساتھ ان کے سیاسی فلسفہ کو غلط ثابت کیا اور وہ سیاسی طور پر مر چکے ہیں۔ کیونکہ انہوں نے انتہاپسندی اور اشتعال انگیزی کو ہوا دے کر عوامی حمایت یا مقبولیت حاصل کی اور اس عوامی حمایت سے جو تبدیلی یا انتشار برپا کیا، وہ انہی رہنماؤں، ان کی سیاسی جماعتوں اور خود عوام کےلیے تباہ کن ثابت ہوا۔ ان رہنماؤں میں دائیں اور بائیں بازو کی سیاست کرنے والے، قوم پرست اور مذہبی سوچ کے حامل سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ فوجی طالع آزما بھی شامل تھے۔
تاریخ میں چند سیاسی رہنما ایسے ہیں، جن کا سیاسی فلسفہ آج بھی زندہ اور کارگر (Relevant) ہے اور یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ آج بھی اپنی سیاسی سوچ اور اپچ (Approach) کی وجہ سے مکانی اور زمانی طور پر زندہ ہیں۔ ان میں سے ایک شہید ذوالفقار علی بھٹو بھی ہیں۔ یہ وہ رہنما ہیں، جنہیں تاریخ کا بہت گہرا ادراک تھا اور انہوں نے تاریخ کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنا سیاسی ویژن دیا۔
شہید بھٹو کا سیاسی ویژن تین بنیادی اصولوں پر استوار ہے۔ پہلا بنیادی اصول یہ ہے کہ اپنے ملک اور اپنی قوم کے مفادات کو خارجی سیاست میں ہمیشہ مقدم رکھا جائے۔ دوسرا اصول یہ ہے کہ داخلی طور پر بنیادی مسائل کو حل کیا جائے اور اس کےلیے محروم اور کچلے ہوئے طبقات، قومیتوں اور گروہوں کو ان کے حقوق دلوائے جائیں۔ ان کے وسائل پر ان کا حق تسلیم کیا جائے، انہیں معاشی طور پر مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ انہیں شہری آزادیوں سمیت تمام بنیادی انسانی حقوق حاصل ہوں۔ تیسرا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذکورہ بالا دونوں بنیادی اصولوں پر عمل پیرا ہونے کےلیے طویل اور صبر آزما جمہوری جدوجہد کا راستہ اختیار کیا جائے، جو پُرامن ہونے کے ساتھ ساتھ پائیدار بھی ہے اور مرحلہ وار پیش رفت اور فتوحات کا پیش خیمہ بھی ہے۔
جمہوری جدوجہد کا راستہ تباہ کن مہم جوئی یا انتشار کے راستے سے بہتر ہے۔ مہم جوئی اور انتشار کا راستہ سامراجی اور عوام دشمن قوتوں کے فائدے میں ہوتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے عوام سے وہ بھی چھن جاتا ہے، جو اس نے پُرامن جمہوری جدوجہد سے حاصل کیا ہوتا ہے۔ اس لیے سامراجی اور عوام دشمن قوتیں پُرامن جمہوری جدوجہد کا راستہ اختیار کرنے والوں سے ہمیشہ خوف زدہ رہتی ہیں اور انہیں اپنے قہر کا نشانہ بناتی ہیں۔ بھٹو خاندان اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی بے مثل قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں۔
پیپلز پارٹی کی پُرامن جمہوری جدوجہد اور قربانیوں کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔ آج اگر پاکستان میں ایک وفاقی پارلیمانی جمہوری آئین ہے، جمہوریت ہے، وفاقی اکائیوں اور عوام کو کچھ ملا ہے تو وہ شہید بھٹو اور ان کے سیاسی ویژن پر عمل کرنے والی پاکستان پیپلز پارٹی کی وجہ سے ملا ہے۔ شہید بھٹو کے سیاسی ویژن کی بنیاد پر پیپلز پارٹی آج بھی عوام کی حقیقی نمائندہ جماعت کے طور پر جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے اور ابھی تک کارگر ہے۔ اس لیے بھٹو آج بھی زندہ ہے۔
شہید بھٹو کے سیاسی ویژن اور فلسفے کو سمجھنا ہے تو ان کی تحریروں، انٹرویوز اور تقریروں کا بہت گہرائی کے ساتھ مطالعہ ضروری ہے۔ 30 نومبر 1967 کو پاکستان پیپلز پارٹی کے پہلے تاسیسی اجلاس میں شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی تحریر کردہ ’’بنیادی دستاویزات‘‘ پیش کیں، جو پارٹی نے منظور کرلیں۔ ان بنیادی دستاویزات میں یہ قرار دیا گیا کہ اسلام ہمارا دین ہے، جمہوریت ہماری سیاست ہے، سوشلزم ہماری معیشت اور طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔ پھر ان بنیادی دستاویزات کی توضیح کےلیے شہید بھٹو نے اپریل 1968 میں پاکستان پیپلز پارٹی کا ایک تفصیلی پروگرام تحریر کیا، جس میں وہ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ’’پاکستان ایک بھنور میں پھنس گیا ہے۔ جب ہم اپنی قومی زندگی کے گزشتہ 20 سال پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں ایک خطرناک رحجان نظر آتا ہے، جو بین الاقوامی اور برصغیر کے مسائل سے مل کر پیدا ہوا ہے۔ یہ سوچنا غیر معقول ہوگا کہ یہ بحران موجودہ دور کا روزمرہ کا بحران ہے یا قدرتی عمل کا نتیجہ ہے۔ اس غالب منفی رحجان کو پلٹنا ہوگا۔
ذوالفقار علی بھٹو شہید جیسا عالم اور مدبر سیاست دان صدیوں میں پیدا ہوتا ہے۔ وہ حالات کو بین الاقوامی اور تاریخی تناظر میں دیکھتے تھے۔ ان کی سوچ سطحی نہیں بلکہ گہری تھی۔ جس زمانے میں انہوں نے پارٹی بنائی، اس زمانے میں عالمی اشتراکی تحریک بہت مضبوط تھی اور سوشلسٹ انقلابات برپا ہورہے تھے لیکن شہید بھٹو کی نظر مستقبل پر تھی۔ انہیں پتہ تھا کہ اس اشتراکی تحریک کا انجام کیا ہوگا۔ اس لیے انہوں نے ملک میں اشتراکی آمریت کا نعرہ لگانے کے بجائے جمہوریت کو اپنی سیاست قرار دیا، جس پر بالآخر اشتراکی (سوشلسٹ) ممالک کو بھی آنا تھا لیکن بڑی تباہی کے بعد۔
شہید بھٹو نے سوشلزم کو سیاست نہیں بلکہ اپنی معیشت قرار دیا۔ بنیادی دستاویزات اور پارٹی پروگرام میں انہوں نے اس کی مدلل وضاحت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سرمایہ داری وہ نہیں ہے، جو یورپ اور دیگر سرمایہ دار ممالک میں ہے۔ وہاں کی سرمایہ داری جمہوریت اور شہری آزادیوں کی حامی ہے جبکہ پاکستان میں سرمایہ داری کے نام پر صرف 22 خاندان سرمایہ لوٹ رہے ہیں اور وہ عوام کے جمہوری حقوق کے مخالف اور آمریت نواز ہیں۔ وہ اپنے کارخانوں کو گنجائش کے مطابق نہیں چلاتے اور نہ ہی مزید صنعت کاری ہونے دیتے ہیں۔ وہ صنعتوں کے نام پر ریاستی سرمایہ قرضوں کے نام پر ہڑپ کرتے ہیں۔ ان کی وجہ سے محنت کشوں کےلیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا نہیں ہو رہے اور ملک کی اکثریتی دیہی آبادی انتہائی غربت کا شکار ہے۔
بنیادی دستاویزات میں نجی سرمایہ کاری کی مخالفت بھی نہیں کی گئی بلکہ یہ لکھا گیا کہ ’’نجی سرمایہ کاری کی اجازت محض قابلیت، ہنرمندی اور جائز نفع رسانی کے اصولوں پر ہوگی، نہ کہ بڑے خاندانوں کی سرپرستی اور نوکر شاہی کی ناجائز دھڑے بندیوں کی بنا پر۔ نجی سرمایہ کاری اس حد تک نفع اندوز ہوسکتی ہے جبکہ محنت کش طبقہ اس کی نفع رسانی میں برابر کا شریک ہو۔ شہید بھٹو سوشلزم کے حامی تھے لیکن ان کا کہنا تھا کہ سوشلزم محض ایک آرڈر یا آمریت سے نافذ نہیں ہوتا ۔ غیر طبقاتی اور سوشلسٹ معاشرے کے قیام اور سرمایہ دارانہ استحصال سے نجات کےلیے انسان کو تاریخی مرحلوں سے گزرنا ہے ۔ یہ سفر عوام دوست سیاسی پروگرام کے تحت جمہوریت سے ہی طے ہوسکے گا۔
ایک اور بڑا کارنامہ شہید بھٹو کا یہ ہے کہ انہوں نے 1973 کے دستور کے ذریعے پاکستان کو نہ صرف وفاقی پارلیمانی جمہوری نظام حکومت دیا بلکہ وفاقی اکائیوں کو زیادہ سے زیادہ خود مختاری دے کر ان کا احساس محرومی ختم کیا۔ شہید بھٹو نے پاکستان کو غیر جانبدارانہ خارجہ پالیسی دی ، جس کی وضاحت انہوں نے اپنی کتاب ’’آزادی موہوم‘‘ ( Myth of Independence) میں کی۔ وہ پاکستان کو امریکی مفادات کی بھینٹ چڑھانے کے مخالف تھے اور اسے چین کے قریب لانے کی وکالت کرتے رہے لیکن انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ چین سے تعلقات میں بھی پاکستان کے مفادات کو سامنے رکھا جائے۔
انہوں نے یہ کہہ کر ہر بحران کا تاریخی طور پر ایک آزمودہ حل بتادیا کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔ ہر بحران میں عوام سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ یہ بھٹو ازم ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور نظریہ کارگر نہیں۔ لیکن افسوس کہ شہید بھٹو کے فلسفے اور ویژن کے برعکس کیا گیا ۔ عالمی طاقتوں کے کھیل میں پاکستان کو جھونک کر کبھی فوجی حکومتیں قائم کی گئیں اور کبھی نسلی، لسانی، علاقائی، مذہبی اور نام نہاد سیاسی انتہا پسندی کو فروغ دے کر پیپلز پارٹی کے مقابلے میں کھڑا کیا گیا ۔
آج ملک پھر اسی بھنور میں پھنسا ہوا ہے، جس کی نشاندہی شہید بھٹو نے اپنی کتاب ’’اگر مجھے قتل کیا گیا‘‘ میں کی تھی۔ شہید بھٹو کے عدالتی قتل کے بعد شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے ملک کو بحران سے نکالنے کےلیے شہید بھٹو کے سیاسی فلسفے پر عمل کیا اور اپنی جان قربان کردی اور اب بلاول بھٹو زرداری اس فلسفے کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔
شہید بھٹو کے الفاظ میں بلاول بھٹو عوام کے ساتھ روابط قائم کرکے اور ان کی آرزؤوں اور تمناؤں کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ کرکے آگے بڑھ رہے ہیں ۔ شہید بھٹو آج بھی زندہ ہیں اور رہنمائی کر رہے ہیں کیونکہ انہوں نے ایک آمر کے ہاتھوں مرنا پسند کیا، تاریخ کے ہاتھوں نہیں۔ ان کے سیاسی فلسفے کو تاریخ نے بھی درست ثابت کیا ہے۔ آج کے حالات میں پھر شہید بھٹو سے رجوع کرنے کی ضرورت ہے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بنیادی دستاویزات جمہوری جدوجہد شہید بھٹو کے شہید بھٹو نے پیپلز پارٹی سیاسی ویژن پاکستان کو کی وجہ سے کا راستہ انہوں نے کے سیاسی یہ ہے کہ ہیں اور زندہ ہے رہے ہیں کے ساتھ اور ان ہے اور آج بھی اور اس
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔