نعمان اعجاز کا یوٹیوبر معاذ صفدر کی وائرل ویڈیو پر تنقیدی تبصرہ، کیا کہا؟
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
ان دنوں پاکستان کے یوٹیوبر معاذ صفدر کی جانب سے اہلیہ کو سالگرہ پر دیا گیا پھولوں کا بڑا گلدستہ مہنگا تحفہ ہونے کی وجہ سے سوشل میڈیا پر خاصا زیرِ بحث رہا۔
معاذ صفدر نے اپنی بیوی صبا کے لیے گلابوں کا ایک انتہائی قیمتی اور بڑا گلدستہ بنوایا جس کی ویڈیو انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کی۔ بتایا گیا ہے کہ اس گلدستے کی قیمت تقریباً تین سے چار لاکھ روپے تھی اور اسے لانے کے لیے ایک خصوصی ٹرک کا انتظام کیا گیا تھا۔
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف تبصرے سامنے آئے۔ بعض لوگوں نے اس اقدام کو محبت کے اظہار کا خوبصورت طریقہ قرار دیتے ہوئے معاذ صفدر کی تعریف کی، جبکہ دیگر صارفین نے اسے غیر ضروری نمود و نمائش قرار دے کر تنقید کا نشانہ بنایا۔
اسی وائرل ویڈیو پر پاکستان شوبز کے سینئر اداکار نعمان اعجاز نے بھی رائے کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک پیغام شیئر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے تحائف اگرچہ دل کو بھاتے ہیں، مگر سادگی اور اعتدال کو ترجیح دینا زیادہ بہتر ہے۔
https://www.instagram.com/p/DLHZF1xiNn9/
انہوں نے مداحوں کو پیغام دیا کہ یہ صرف ویڈیو کا کانٹینٹ ہے حقیقی محبت نہیں اس لئے کوئی بھی لڑکی اپنے شوہروں سے اس قسم کے قیمتی تحائف کیلئے اُمید نہ کرے اور ان پر دباؤ نہ ڈالے۔ نعمان اعجاز نے مزید کہا کہ اب مظلوم شوہر پھر سے برداشت کریں گے۔
نعمان اعجاز نے واضح کیا کہ رشتے میں محبت سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کرنے والی چیزوں پر مواد بنانا نہیں بلکہ حقیقی رشتے احترام، سمجھ اور حقیقی تعلق پر استوار ہوتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ