کراچی ایئرپورٹ پر شدید ٹریفک جام، بلاول بھٹو کی آمد سے قبل راستے بند
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: آج سہ پہر تین بجے کے قریب، کراچی ایئرپورٹ کی طرف جانے والے اہم راستوں پر شدید ٹریفک جام کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی رات 7 بجے ایئرپورٹ آمد اور کسی پروگرام کے لیے روانگی کے پیش نظر انتظامیہ نے حفاظتی اقدامات کے تحت اہم شاہراہوں کو قبل از وقت بند کر دیا ہے۔
ہمارے رپورٹر نے بتایا کہ شاہراہ فیصل، اور دیگر متعلقہ راستوں پر گاڑیوں کا رش بڑھ گیا ہے، جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ٹریفک پولیس نے متبادل راستوں کی طرف رہنمائی شروع کر دی ہے، تاہم غیر یقینی صورتحال نے روزمرہ کے سفر کو متاثر کیا ہے۔
شہریوں کی جانب سے انتظامیہ سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ ٹریفک کے بہاؤ کو منظم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات یقینی بنائے جبکہ انتظامیہ کی جانب سے شہریوں سے گزارش کی جا رہی ہے کہ وہ متبادل راستوں کا استعمال کریں اور صورتحال کو برداشت کریں جب تک کہ آمد کے پروگرام کا اختتام نہ ہو جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔