Express News:
2026-07-24@05:29:56 GMT

پاکستانی ورنا نظام

اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT

کتابوں میں پڑھا تھا کہ ورنا نظام صرف ہندوستان تک محدود تھا۔ پر ہمیں کیا خبر تھی کہ اس کا ری میک پاکستانی بجٹ ورژن کی صورت میں ہمیں تقریباً ہر سال ہی براہِ راست دیکھنے کو ملے گا۔

پڑھا یہ تھا کہ ہندو مت میں ورنا نظام کے نام سے سماجی طبقات (ورناس) کا ایک قدیمی نظام ہوتا تھا جس کے مطابق قدیمی ہندو معاشرہ چار بنیادی درجات (ورناس) میں تقسیم تھا۔ پہلے نمبر پر برہمن ورگ تھے جس میں شامل برہمن سب سے اعلیٰ درجے میں شمار ہوتے تھے ان کا کام مذہبی رسومات ادا کرنا، تعلیم دینا اور ویدوں کی تعلیم دینا بھی تھا یعنی یہ پجاری اور استاد کے ساتھ ساتھ مشیر ہوتے تھے۔

ورناس میں دوسرے درجے پر کشترِیَ ورگ تھے یہ حکمران، سپاہی (جنگجو) طبقہ تھا۔ ان کا کام حکومت کرنا، راج کا تحفظ کرنا اور اپنے اور برہمن کے بنائے ہوئے قانون و عدل کو نافذ کرنا تھا۔

تیسرے درجے پر وَیشیَ ورگ ہوتے تھے یہ تاجر، کسان اور کاروباری لوگ ہوتے تھے۔ ان کا کام تجارت، زراعت اور مویشی پروری تھا۔ چوتھے درجے پر شودر ورگ سمجھے جاتے تھے یہ سب سے نچلا درجہ سمجھا جاتا تھا ان کا کام خدمت کرنا اور دوسرے طبقات کے لیے مزدوری و معاونت فراہم کرنا تھا۔

ذات پات پر مبنی ورنا نظام کے بعد ایک انتہائی نچلے درجے پر اچھوت یا ہریجن ہوتے تھے انھیں بہت نیچ سمجھا جاتا تھا اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا تھا۔ جدید ہندوستان میں انھیں دلت کہا جاتا ہے۔

اب اخبارات میں پڑھا کہ پاکستان میں سینیٹ چیئرمین، اسپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہوں میں 630 فیصد اضافہ، وفاقی وزرا، وزرائے مملکت، اراکین قومی اسمبلی، اراکین سینیٹ کی تنخواہوں میں تقریباً تین سو فیصد اضافہ، بجٹ سے پہلے کر دیا گیا پھر وفاقی اور صوبائی بجٹ میں وفاقی اور صوبائی افسران و ملازمین کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافہ کر دیا گیا جب کہ ٹیکس دینے والے پرائیویٹ ملازمین کی آمدنی پر اور غریب عوام پر اتنا ٹیکس لاد دیا کہ ان کی سانسیں بس چل رہی ہیں۔

اب یہاں پر بھارتی ورنا سسٹم اور پاکستان میں اس مراعات سسٹم میں مماثلت تلاش نہ کی جائے۔ پاکستان میں اعلیٰ طبقے یا پھر ملک کے چھ سو مخصوص خاندانوں تک بجٹ سے پہلے ہی اعلیٰ ترین ثمرات پہنچا دیے گیے ہیں۔

بجٹ میں اکیس بائیس گریڈ کے افسران کی مراعات میں اضافہ کیا گیا جن کو پہلے کی مراعات کی موجودگی میں اس کی ویسے بھی ضرورت نہیں تھی۔ سترہ گریڈ سے بیس گریڈ تک کے افسران کی اکثریت اب رینکرز جیسی لوٹ مار کی سوچ رکھتے ہیں اور قومی خزانے و قوم کی جیبوں پر ہاتھ صاف کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔

بجٹ میں ہمیشہ ریڑھ کی ہڈی پرائیوٹ اداروں کے تنخواہ دار ملازمین ہوتے ہیں جن سے ان کی مرضی کے بغیر ہی ہر ماہ ایٹ سورس ٹیکس کاٹا جاتا ہے اور سب سے زیادہ پریشان بھی اسی طبقے کو کیا جاتا ہے۔اب اس طبقے کو فائلر قرار دے کر اس میں سے نان فائلر نیا طبقہ بنایا جا رہا ہے جس میں سفید پوش اور پندرہ سے بیس ہزار کی تنخواہ پر گزارہ کرنے والے شامل ہیں جن کے ساتھ جو زیادتی ہو رہی ہے اس پر، اُن کے ووٹوں سے اسمبلیوں میں پہنچنے والے مجسمے بنے ہوئے ہیں ،ان کی آواز اپنی تنخواہوں میں تین/ تین سو فیصد تک اضافہ کرانے کے لیے ہی بلند ہوتی ہے جب کہ حکومت اپنی ہی جانب سے کم سے کم مقرر کردہ تنخواہوں کے معاملے میں آج تک اپنی رٹ ہی نہیں منوا سکی ہے کیونکہ یہ مسئلہ پاکستانی ورنا نظام سے باہر کے طبقے کا مسئلہ ہے یعنی ہندو ورنا نظام کتابوں میں رہ گیا یا پھر اب پاکستانی بجٹ یا پھر نظام میں زندہ ہے بس نام بدلے ہیں۔

یاد رہے کہ بھارت میں ورنا بطور ایک رسمی و پیدائشی طبقات کا نظام آج کسی قانونی ساخت میں موجود نہیں اور اس کے حوالے سے اکثر لوگ کہتے ہیں کہ یہ ماضی کی چیز ہے لیکن ’’ذات پر مبنی شناخت‘‘ اور اس کے اثرات اب بھی بھارتی سماج اور سیاست میں اہم کردار ادا کرتے ہیں تو اسی طرح پاکستان میں تین فیصد اشرافیہ، جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور طاقتور حلقوں میں شامل بااختیار، قانون و آئین سے بالا، روایتی یا وراثتی طور پر طاقتور و مراعات یافتہ، پیدائشی حق حکمرانی کی طاقت رکھنے والے خواص، پاکستانی معاشرے میں سرفہرست رہنے کے لیے ہمیشہ اقدامات کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے جس کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ پاکستان میں دلت (غریب عوام) بجٹ میں پستے رہیں۔

پاکستان میں ورنا نظام کو اگر تنخواہ، تعلق، طاقت اور ٹیکس سے ناپا جائے تو پھر خلاصہ کچھ یوں ہو سکتا ہے۔ ہر چیز پر قابض طاقتور اشرافیہ برہمن، اختیار و اسمبلی کارڈ والے کشترِیَ، اہم سرکاری عہدے والے ویشا اور غریب عوام سے جو ٹیکس کے نام پر خون پسینے کی کمائی نکلوائے وہ شودر جب کہ جو ہر چیز پر بلاجواز ٹیکس پر ٹیکس بھرے وہ پاکستانی شاید دلت ہو سکتے ہیں۔

دلتوں کے شاید کوئی حقوق نہیں ہوتے‘ وہ تمام تر خدمات اور قربانی کے باوجود معاشرے کا پسماندہ ترین حصہ ہی رہتے ہیں۔ انصاف کے فیصلے بھی ان کے حق میں نہیں ہوتے‘ یہ دلت نما عوام ظلم کے تمام ضابطوں کو نصیب کا لکھا سمجھ کر قبول کر لیتے اور خاموش رہتے ہیں۔یعنی ہندوستان کے ورنا نظام کو صدیوں پہلے قانون نے بظاہر ختم کر دیا لیکن پاکستان کا مراعاتی نظام اور اس سے فیض یافتہ طبقہ، کسی قانون سے خوفزدہ نہیں، کیونکہ قانون اکثر ان کے قدموں میں ہوتا ہے اس لیے تجویز یہ ہے کہ اگلی مردم شماری میں’’اشرافیہ‘‘ اور ’’عوام‘‘ کو الگ الگ ذات کے طور پر شمار کرایا جائے تو زیادہ بہتر ہو گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: تنخواہوں میں پاکستان میں ان کا کام کے لیے اور اس

پڑھیں:

ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت

اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں 23ویں کامن ویلتھ گیمز کا آغاز شاندار اور رنگا رنگ افتتاحی تقریب سے ہوگیا، جہاں اولمپک چیمپئن ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے نے قومی پرچم کے ساتھ باوقار انداز میں مارچ پاسٹ کیا۔ پاکستان ایونٹ میں 6 مختلف کھیلوں میں حصہ لے گا اور تمغوں کی سب سے زیادہ امید ارشد ندیم سے وابستہ ہے۔

اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں 23ویں کامن ویلتھ گیمز کا آغاز جمعرات کو ہائیڈرو ایرینا میں ایک شاندار، رنگا رنگ اور منفرد افتتاحی تقریب سے ہوا، جس نے اسکاٹ لینڈ کی بھرپور ثقافتی روایات کو جدید انداز میں پیش کرتے ہوئے گیمز کی تاریخ کی یادگار افتتاحی تقریبات میں اپنا مقام بنا لیا۔

یہ بھی پڑھیے کامن ویلتھ گیمز میں ارشد ندیم ایک بار پھر تاریخ دہرانے کے لیے پرعزم

افتتاحی تقریب میں سینکڑوں کھلاڑیوں، آفیشلز اور شائقین نے شرکت کی۔ موسیقی، دلکش روشنیوں، جدید بصری اثرات اور فنکارانہ پرفارمنسز نے پورے ایرینا کو جشن کے رنگوں میں رنگ دیا، جبکہ دولتِ مشترکہ کے مختلف رکن ممالک سے آنے والے کھلاڑیوں کا پرتپاک خیرمقدم کیا گیا۔

27 رکنی پاکستانی دستہ اولمپک گولڈ میڈلسٹ اور عالمی ریکارڈ ہولڈر جیولن تھروور ارشد ندیم کی قیادت میں میدان میں داخل ہوا۔ مارچ پاسٹ کے دوران ارشد ندیم نے قومی پرچم تھام رکھا تھا۔ اس بار روایت سے ہٹ کر کھلاڑیوں کی پریڈ انگریزی حروفِ تہجی کے بجائے براعظموں کی بنیاد پر ترتیب دی گئی، جس کے تحت سب سے پہلے افریقی ممالک کے دستے اور اس کے بعد ایشیائی ممالک کے کھلاڑی میدان میں آئے۔

پاکستان کامن ویلتھ گیمز میں 6 مختلف کھیلوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرے گا، جن میں ایتھلیٹکس، باکسنگ، جمناسٹکس، جوڈو، لان بولز اور تیراکی شامل ہیں۔

قومی دستے کی سب سے بڑی امید ارشد ندیم ہیں، جنہوں نے اپنی غیرمعمولی کارکردگی اور عالمی سطح پر نمایاں کامیابیوں کے باعث ایک بار پھر پاکستان کے لیے تمغہ جیتنے کی توقعات کو مضبوط کر دیا ہے۔

ایک ہفتے سے زائد جاری رہنے والے ان کھیلوں میں دولتِ مشترکہ کے بہترین ایتھلیٹس مختلف مقابلوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں گے، جبکہ پاکستان خصوصاً ایتھلیٹکس اور باکسنگ میں نمایاں کامیابی حاصل کرکے اپنے تمغوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کے عزم کے ساتھ میدان میں اترے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

23ویں کامن ویلتھ گیمز اسکاٹ لینڈ اولمپک چیمپئن ارشد ندیم کھیل گلاسگو

متعلقہ مضامین

  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا