کتابوں میں پڑھا تھا کہ ورنا نظام صرف ہندوستان تک محدود تھا۔ پر ہمیں کیا خبر تھی کہ اس کا ری میک پاکستانی بجٹ ورژن کی صورت میں ہمیں تقریباً ہر سال ہی براہِ راست دیکھنے کو ملے گا۔
پڑھا یہ تھا کہ ہندو مت میں ورنا نظام کے نام سے سماجی طبقات (ورناس) کا ایک قدیمی نظام ہوتا تھا جس کے مطابق قدیمی ہندو معاشرہ چار بنیادی درجات (ورناس) میں تقسیم تھا۔ پہلے نمبر پر برہمن ورگ تھے جس میں شامل برہمن سب سے اعلیٰ درجے میں شمار ہوتے تھے ان کا کام مذہبی رسومات ادا کرنا، تعلیم دینا اور ویدوں کی تعلیم دینا بھی تھا یعنی یہ پجاری اور استاد کے ساتھ ساتھ مشیر ہوتے تھے۔
ورناس میں دوسرے درجے پر کشترِیَ ورگ تھے یہ حکمران، سپاہی (جنگجو) طبقہ تھا۔ ان کا کام حکومت کرنا، راج کا تحفظ کرنا اور اپنے اور برہمن کے بنائے ہوئے قانون و عدل کو نافذ کرنا تھا۔
تیسرے درجے پر وَیشیَ ورگ ہوتے تھے یہ تاجر، کسان اور کاروباری لوگ ہوتے تھے۔ ان کا کام تجارت، زراعت اور مویشی پروری تھا۔ چوتھے درجے پر شودر ورگ سمجھے جاتے تھے یہ سب سے نچلا درجہ سمجھا جاتا تھا ان کا کام خدمت کرنا اور دوسرے طبقات کے لیے مزدوری و معاونت فراہم کرنا تھا۔
ذات پات پر مبنی ورنا نظام کے بعد ایک انتہائی نچلے درجے پر اچھوت یا ہریجن ہوتے تھے انھیں بہت نیچ سمجھا جاتا تھا اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا تھا۔ جدید ہندوستان میں انھیں دلت کہا جاتا ہے۔
اب اخبارات میں پڑھا کہ پاکستان میں سینیٹ چیئرمین، اسپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہوں میں 630 فیصد اضافہ، وفاقی وزرا، وزرائے مملکت، اراکین قومی اسمبلی، اراکین سینیٹ کی تنخواہوں میں تقریباً تین سو فیصد اضافہ، بجٹ سے پہلے کر دیا گیا پھر وفاقی اور صوبائی بجٹ میں وفاقی اور صوبائی افسران و ملازمین کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافہ کر دیا گیا جب کہ ٹیکس دینے والے پرائیویٹ ملازمین کی آمدنی پر اور غریب عوام پر اتنا ٹیکس لاد دیا کہ ان کی سانسیں بس چل رہی ہیں۔
اب یہاں پر بھارتی ورنا سسٹم اور پاکستان میں اس مراعات سسٹم میں مماثلت تلاش نہ کی جائے۔ پاکستان میں اعلیٰ طبقے یا پھر ملک کے چھ سو مخصوص خاندانوں تک بجٹ سے پہلے ہی اعلیٰ ترین ثمرات پہنچا دیے گیے ہیں۔
بجٹ میں اکیس بائیس گریڈ کے افسران کی مراعات میں اضافہ کیا گیا جن کو پہلے کی مراعات کی موجودگی میں اس کی ویسے بھی ضرورت نہیں تھی۔ سترہ گریڈ سے بیس گریڈ تک کے افسران کی اکثریت اب رینکرز جیسی لوٹ مار کی سوچ رکھتے ہیں اور قومی خزانے و قوم کی جیبوں پر ہاتھ صاف کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
بجٹ میں ہمیشہ ریڑھ کی ہڈی پرائیوٹ اداروں کے تنخواہ دار ملازمین ہوتے ہیں جن سے ان کی مرضی کے بغیر ہی ہر ماہ ایٹ سورس ٹیکس کاٹا جاتا ہے اور سب سے زیادہ پریشان بھی اسی طبقے کو کیا جاتا ہے۔اب اس طبقے کو فائلر قرار دے کر اس میں سے نان فائلر نیا طبقہ بنایا جا رہا ہے جس میں سفید پوش اور پندرہ سے بیس ہزار کی تنخواہ پر گزارہ کرنے والے شامل ہیں جن کے ساتھ جو زیادتی ہو رہی ہے اس پر، اُن کے ووٹوں سے اسمبلیوں میں پہنچنے والے مجسمے بنے ہوئے ہیں ،ان کی آواز اپنی تنخواہوں میں تین/ تین سو فیصد تک اضافہ کرانے کے لیے ہی بلند ہوتی ہے جب کہ حکومت اپنی ہی جانب سے کم سے کم مقرر کردہ تنخواہوں کے معاملے میں آج تک اپنی رٹ ہی نہیں منوا سکی ہے کیونکہ یہ مسئلہ پاکستانی ورنا نظام سے باہر کے طبقے کا مسئلہ ہے یعنی ہندو ورنا نظام کتابوں میں رہ گیا یا پھر اب پاکستانی بجٹ یا پھر نظام میں زندہ ہے بس نام بدلے ہیں۔
یاد رہے کہ بھارت میں ورنا بطور ایک رسمی و پیدائشی طبقات کا نظام آج کسی قانونی ساخت میں موجود نہیں اور اس کے حوالے سے اکثر لوگ کہتے ہیں کہ یہ ماضی کی چیز ہے لیکن ’’ذات پر مبنی شناخت‘‘ اور اس کے اثرات اب بھی بھارتی سماج اور سیاست میں اہم کردار ادا کرتے ہیں تو اسی طرح پاکستان میں تین فیصد اشرافیہ، جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور طاقتور حلقوں میں شامل بااختیار، قانون و آئین سے بالا، روایتی یا وراثتی طور پر طاقتور و مراعات یافتہ، پیدائشی حق حکمرانی کی طاقت رکھنے والے خواص، پاکستانی معاشرے میں سرفہرست رہنے کے لیے ہمیشہ اقدامات کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے جس کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ پاکستان میں دلت (غریب عوام) بجٹ میں پستے رہیں۔
پاکستان میں ورنا نظام کو اگر تنخواہ، تعلق، طاقت اور ٹیکس سے ناپا جائے تو پھر خلاصہ کچھ یوں ہو سکتا ہے۔ ہر چیز پر قابض طاقتور اشرافیہ برہمن، اختیار و اسمبلی کارڈ والے کشترِیَ، اہم سرکاری عہدے والے ویشا اور غریب عوام سے جو ٹیکس کے نام پر خون پسینے کی کمائی نکلوائے وہ شودر جب کہ جو ہر چیز پر بلاجواز ٹیکس پر ٹیکس بھرے وہ پاکستانی شاید دلت ہو سکتے ہیں۔
دلتوں کے شاید کوئی حقوق نہیں ہوتے‘ وہ تمام تر خدمات اور قربانی کے باوجود معاشرے کا پسماندہ ترین حصہ ہی رہتے ہیں۔ انصاف کے فیصلے بھی ان کے حق میں نہیں ہوتے‘ یہ دلت نما عوام ظلم کے تمام ضابطوں کو نصیب کا لکھا سمجھ کر قبول کر لیتے اور خاموش رہتے ہیں۔یعنی ہندوستان کے ورنا نظام کو صدیوں پہلے قانون نے بظاہر ختم کر دیا لیکن پاکستان کا مراعاتی نظام اور اس سے فیض یافتہ طبقہ، کسی قانون سے خوفزدہ نہیں، کیونکہ قانون اکثر ان کے قدموں میں ہوتا ہے اس لیے تجویز یہ ہے کہ اگلی مردم شماری میں’’اشرافیہ‘‘ اور ’’عوام‘‘ کو الگ الگ ذات کے طور پر شمار کرایا جائے تو زیادہ بہتر ہو گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: تنخواہوں میں پاکستان میں ان کا کام کے لیے اور اس
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔