آئی آر جی سی کے بیان کے مطابق جمعہ کی رات شاہد-136 ڈرونز کے کئی اسکواڈرنز نے مقبوضہ علاقوں کی فضاؤں میں مسلسل کارروائیاں جاری رکھیں اور جدید ترین فضائی دفاعی نظام انہیں روکنے میں ناکام رہا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ میزائل اور ڈرونز کی مشترکہ کارروائیاں مسلسل اور نشانہ بندی کے ساتھ جاری رہیں گی۔ اسلام ٹائمز۔ صیہونی ریاست کی جارحیت کیخلاف ایران کے وعدہ صادق 3 آپریشن کے نئے مرحلے کے دوران ایرانی ڈرونز نے اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام کو بے بس کر دیا۔ ایرانی ڈرونز نے اسرائیل کے تمام دفاعی شیلڈ کو عبور کرتے ہوئے شمالی اور جنوبی علاقوں میں اہداف پر کامیاب حملہ کیا ہے۔ صیہونی حکام نے صرف دو ڈرونز کے کامیاب حملے کا اعتراف کر لیا۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے صیہونی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ دو ایرانی ڈرونز نے اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام کو عبور کرتے ہوئے شمالی اور جنوبی علاقوں میں اہداف پر حملہ کیا، جو ایران کی جانب سے اسرائیلی فضائی دفاع کو کامیابی سے عبور کرنے کے چند واقعات میں سے ایک ہے۔ اسرائیل کی ایمرجنسی سروسز کے عملے کے مطابق شمالی اسرائیل میں گھس جانے والے ڈرون نے اردن کی سرحد کے قریب واقع بیت شان نامی قصبے میں ایک دو منزلہ گھر کو نشانہ بنایا۔ حملے کے بعد منظر عام پر آنے والی تصاویر میں عمارت کے ایک جانب بڑا شگاف دیکھا جا سکتا تھا، جبکہ کھڑکیاں اور دروازے دھماکے سے اڑ گئے ہیں۔ گھر کے اردگرد کا علاقہ دھماکے کے ملبے اور گرد سے اٹا پڑا ہے۔ صیہونی حکام کے مطابق دوسرا ڈرون جنوبی علاقے میں ہدف پر جا لگا۔

دوسری جانب ہفتے کی صبح، آپریشن وعدہ صادق III کے اٹھارویں مرحلے میں ایرانی مسلح افواج نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کی بوچھاڑ کر دی۔ ایران کے مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 3:10 بجے شروع ہونے والے اس تاریخی انتقامی آپریشن کے دوران سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں مقبوضہ علاقوں کو ایرانی طویل رینج میزائلوں سے روشن ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔میزائل پہنچتے ہی فضائی حملے کے الارم بج اٹھے، جس نے ناجائز ریاست کے آبادکاروں کو ایک بار پھر زیرزمین بنکرز میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا، جہاں وہ ان دنوں زیادہ تر وقت گزار رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا نے تل ابیب کے مرکز میں بڑے دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں، جو ظاہر کرتی ہیں کہ ایرانی میزائلوں نے اسرائیل کے تہہ در تہہ فضائی دفاعی نظام کو ایک بار پھر چکمہ دے کر اپنے اہداف کو نشانہ بنایا۔ ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک میزائل نے تل ابیب کی ایک عمارت کو براہ راست نشانہ بنایا، جس کے بعد بڑی آگ بھڑک اٹھی۔

اطلاعات کے مطابق اس موقع پر ابتدائی انتباہی نظام کام نہیں کر پایا۔ کچھ رپورٹس میں مقبوضہ بندرگاہی شہر حیفہ کے قریب کریوت علاقے میں دھماکے کی آواز سنائی دینے کی بھی اطلاعات ہیں، جہاں جمعے کے روز بھی میزائلوں اور ڈرونز کے بڑے حملے ہوئے تھے۔ آپریشن کے بعد جاری ہونے والے ایک بیان میں اسلامی انقلابی گارڈز کور (IRGC) نے کہا کہ آپریشن وعدہ صادق III کے تازہ مرحلے کا ہدف مقبوضہ فلسطینی علاقوں کا مرکزی حصہ اور بین گوریون ہوائی اڈہ تھا، جہاں صیہونی ریاست کی فوج کے فوجی تنصیبات اور آپریشنل سپورٹ سنٹرز موجود ہیں۔ پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حملے میں شاہد-136 خودکش اور جنگی ڈرونز کی بڑی تعداد کے ساتھ ساتھ ٹھوس اور مائع ایندھن سے چلنے والے میزائل بھی شامل تھے، جو اپنے طے شدہ اہداف کو کامیابی سے تباہ کرنے میں کام یاب رہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ جمعہ کی رات شاہد-136 ڈرونز کے کئی اسکواڈرنز نے مقبوضہ علاقوں کی فضاؤں میں مسلسل کارروائیاں جاری رکھیں اور جدید ترین فضائی دفاعی نظام انہیں روکنے میں ناکام رہا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ میزائل اور ڈرونز کی مشترکہ کارروائیاں مسلسل اور نشانہ بندی کے ساتھ جاری رہیں گی۔

ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کے جاری کردہ بیان کے مطابق اس مرحلے میں طویل رینج اور سپر ہیوی میزائلوں کے ساتھ ساتھ جنگی اور خودکش ڈرونز بھی استعمال کیے گئے۔ ترجمان نے کہا کہ دنیا کو ہمارے حیرت انگیز اقدامات کا انتظار کرنا چاہیے اور مزید کہا کہ ایرانی عوام کی حمایت سے جاری مقدس دفاع فتح کے ساتھ اختتام پذیر ہوگا۔ صیہونی ریاست کی سرکاری سنسرشپ کے باوجود حیفا بندرگاہ پر میزائل حملے کی ویڈیوز سامنے آئیں، سرکاری پابندیوں کے باوجود، سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی کچھ ویڈیوز میں حیفا بندرگاہ پر میزائل کے براہ راست حملے کے بعد دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ جمعہ کے روز میزائلوں کی ایک بڑی تعداد جن میں سے کچھ پہلی بار استعمال ہوئے، نے مقبوضہ علاقوں کے دیگر حصوں میں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں بیر شیبا کے سائبر ہب بھی شامل ہے۔ صیہونی پروپیگنڈا چینل 14 کے ہیڈکوارٹرز کو بھی جمعہ کے روز کامیابی سے نشانہ بنایا گیا، جس سے قبل آئی آر جی سی نے وارننگ جاری کرتے ہوئے وہاں سے انخلا کی ہدایت کی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایرانی ڈرونز نے اسرائیل فضائی دفاعی نظام مقبوضہ علاقوں دفاعی نظام کو نے اسرائیل کے نشانہ بنایا اور ڈرونز مزید کہا کے مطابق ڈرونز کے ڈرونز کی کے ساتھ کے بعد

پڑھیں:

نتیجہ خیز آپریشن شعبان!

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔

پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔

گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟

پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔

 بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔

سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • مون سون کا طاقتور سپیل جاری، مختلف علاقوں میں آج بھی بارشوں کی پیشگوئی
  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا