امریکی حملے: ایران نے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
ایران نے امریکا کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات پر کیے گئے کھلے اور جارحانہ حملے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اقوام متحدہ میں ایرانی اور اسرائیلی مندوبین کے مابین تند و تلخ جملوں کا تبادلہ
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب سعید ایروانی نے سلامتی کونسل کو ایک خط لکھا جس میں کہا گیا:
’21 جون 2025 کی صبح کے اوائل میں امریکا نے اسرائیلی حکومت کے مکمل تعاون سے، جو اسی وقت ایرانی شہریوں اور اہم بنیادی ڈھانچوں پر بمباری کر رہی تھی، ایران کی نگرانی میں کام کرنے والی تین جوہری تنصیبات، فردو، نطنز اور اصفہان، پر جان بوجھ کر، منصوبہ بندی کے تحت اور بلا اشتعال فضائی حملے کیے:
خط میں مزید کہا گیا کہ ’اس کے فوراً بعد امریکی صدر نے پہلے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹرتھ سوشل‘ پر، اور پھر وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران ان مجرمانہ حملوں اور ایران کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کے خلاف طاقت کے غیرقانونی استعمال کی ذمہ داری کھلے عام قبول کی،۔
ایرانی مندوب نے ان حملوں کو ’بلا جواز اور پہلے سے منصوبہ بند جارحیت‘ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ یہ کارروائیاں 13 جون کو اسرائیلی حکومت کی جانب سے ایران کی پُرامن جوہری تنصیبات پر کیے گئے بڑے فوجی حملے کے بعد کی گئیں۔
ایروانی نے عالمی امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے فوری ہنگامی اجلاس طلب کرنے کی اپیل کی تاکہ امریکا کے اس واضح اور غیرقانونی جارحانہ عمل پر بحث کی جا سکے، اسے شدید الفاظ میں مذمت کی جائے، اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت سلامتی کونسل کو سونپی گئی ذمہ داریوں کے مطابق ضروری اقدامات کیے جائیں۔
وحشیانہ اور غیرقانونی حملے
اس سے قبل ایٹمی توانائی کے ایرانی ادارے (AEOI) نے امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں سے عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہوئی ہے۔
AEOI کے بیان کے مطابق، ایران کی پُرامن جوہری تنصیبات فردو، نطنز، اور اصفہان، کو طلوعِ صبح کے وقت نشانہ بنایا گیا، جو کہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
ادارے نے ان حملوں کو ’وحشیانہ اور غیرقانونی‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ اشتعال انگیزی کسی صورت بے جواب نہیں جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جوہری تنصیبات سلامتی کونسل اقوام متحدہ ایران کی
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔