بٹلہ ہاؤس کی مسلم بستیوں پر اب بلڈوزر نہیں چلے گا، دہلی ہائی کورٹ کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
بٹلہ ہاؤس کے کئی علاقوں میں یوپی ایرگیشن اور ڈی ڈی اے کیجانب سے نوٹس دیا گیا ہے، بتایا جاتا ہے کہ 26 مئی کو ڈی ڈی اے کیجانب سے ان لوگوں کو جگہ خالی کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ اسلام ٹائمز۔ نئی دہلی کے بٹلہ ہاؤس علاقے میں بلڈوزر کارروائی سے فوری طور پر راحت مل گئی ہے۔ ابھی کسی قسم کی کارروائی "ڈی ڈی اے" کی طرف سے نہیں کی جائے گی۔ دہلی ہائی کورٹ نے ڈی ڈی اے کو نوٹس جاری کردیا ہے اور اس پورے معاملے پر جواب مانگا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے بٹلہ ہاؤس علاقے میں ڈی ڈی اے کی جانب سے جاری انہدامی کارروائی پر اہم فیصلہ سناتے ہوئے اس پر فوری طور پر عبوری روک لگا دی ہے۔ عدالت نے ڈی ڈی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس سے 10 جولائی کو ہونے والی اگلی سماعت سے پہلے ڈی مارکیشن یعنی حدبندی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے، تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ جائیداد واقعی اس خسرہ نمبر میں شامل ہے یا نہیں، جس پر ڈی ڈی اے نے کارروائی کرنے کے لئے نوٹس لگائی تھی۔ آپ کو بتا دیں کہ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک فرد نے دہلی ہائی کورٹ میں عرضی دائر کرتے ہوئے کہا کہ اس کی جائیداد کا تعلق خسرہ نمبر 279 سے نہیں ہے، اس کے باوجود ڈی ڈی اے نے اسی خسرہ نمبر کے تحت اس کے خلاف انہدامی کارروائی کرنے کے لئے نوٹس جاری کر دیا ہے۔
ڈی ڈی اے کی جانب سے عدالت میں دعویٰ کیا گیا کہ خسرہ نمبر 279 سے متعلق انہدامی کارروائی کا حکم سپریم کورٹ سے حاصل کیا گیا ہے اور صرف اسی مخصوص خسرہ نمبر پر موجود غیر قانونی تعمیرات کے خلاف نوٹس جاری کئے گئے ہیں۔ ڈی ڈی اے نے یہ بھی کہا کہ دوسرے خسرہ نمبروں پر واقع جائیدادوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل بھی دہلی ہائی کورٹ نے بٹلہ ہاؤس سے متعلق کئی عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے انہدامی کارروائیوں پر عبوری روک لگائی تھی اور ڈی ڈی اے کو اپنا موقف واضح کرنے کی ہدایت دی تھی۔ اب عدالت میں اس معاملے کی اگلی سماعت 10 جولائی کو ہوگی، جبکہ دو دیگر عرضیوں پر سماعت فی الحال 23 جون تک ملتوی کردی گئی ہے۔
آپ کو بتا دیں کہ بٹلہ ہاؤس کے کئی علاقوں میں اترپردیش ایرگیشن اور ڈی ڈی اے کی جانب سے نوٹس دیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 26 مئی کو ڈی ڈی اے کی جانب سے ان لوگوں کو جگہ خالی کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ تاہم نوٹس ملنے کے بعد مقامی افراد نے سخت اعتراض جتایا اور اچانک بے دخل کرنے کی سازش قراردیا۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی بات رکھنے کا موقع تک نہیں دیا جا رہا اور انہیں بغیر کسی وضاحت کے بے دخل کیا جا رہا ہے۔ بہرحال فی الحال بٹلہ ہاؤس میں نہ تویوگی حکومت کا بلڈوزر چلے گا اور نہ ہی ڈی ڈی اے کی طرف سے کارروائی ہوگی۔ اب 23 جون کو بھی دہلی ہائی کورٹ میں سنوائی ہوگی۔ اور پھر 10 جولائی کو پورے معاملے کی سماعت ہوگی۔ تب ہائی کورٹ کا فیصلہ کیا رہتا ہے، اس پر سبھی کو نگاہیں مرکوز ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ڈی ڈی اے کی جانب سے انہدامی کارروائی دہلی ہائی کورٹ نوٹس جاری کرنے کی
پڑھیں:
پانچ اگست کا جلسہ فیصلہ کن ہوگا، آئندہ لائحہ عمل قوم کے سامنے رکھا جائے گا: سہیل آفریدی
سٹی 42 : وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پانچ اگست کے جلسے کی تیاریوں کے لیے تمام پارلیمانی اراکین کو ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں، پانچ اگست کا جلسہ سیمی فائنل اور فیصلہ کن ہوگا، آئندہ لائحہ عمل قوم کے سامنے رکھا جائے گا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پارلیمانی اجلاس سے خطاب کے دوران کہا کہ عوام کی سہولت کے لیے پانچ اگست کے جلسے کا مقام تبدیل کر کے پشاور موٹروے کے قریب کھلے میدان میں منتقل کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 15 اکتوبر 2025 سے تمام آئینی و قانونی راستے اختیار کیے اور افہام و تفہیم سے مسائل حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت بھی مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ذریعے مسائل کے حل کی خواہاں تھی، مخالفین نے مثبت کوششوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔
آئی جی پنجاب نے27افسران کے تقرروتبادلے کر دیے
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان سے ملاقات کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کیا، اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان سے ملاقات کی کوشش کی، ایک تقریب میں چیف جسٹس کے سامنے عمران خان سے ملاقات کا مؤقف پیش کیا، بطور وزیراعلیٰ اپنی جماعت کے قائد سے ملاقات میرا آئینی اور قانونی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے فیصلے عمران خان کے وژن کے مطابق کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
آج شام و رات سے 27 جولائی تک مزید بارشوں کی پیشگوئی
ہم میں سے کسی کی ذاتی سیاسی حیثیت نہیں، عوام نے عمران خان کے نام پر ووٹ دیا، عمران خان کو ملنے والا مینڈیٹ مسترد کرنا ساڑھے چار کروڑ عوام کی توہین ہے، وفاق خیبرپختونخوا کی منتخب حکومت کے ساتھ دوسرے درجے کے شہری جیسا سلوک کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی فیملی، بہنوں اور ذاتی ڈاکٹروں کو ملاقات اور بہترین علاج کی سہولت دی جائے، عمران خان قوم کا اثاثہ اور ملک کے مقبول ترین سیاسی رہنما ہیں۔
لیونل میسی کا بین الاقوامی فٹبال سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ
انہوں نے کہا کہ ہم پر فوجی تنصیبات پر حملوں کے الزامات لگائے گئے، نو مئی کی غیرجانبدار تحقیقات سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ عمران خان کا مؤقف ہے “فوج بھی میری، ملک بھی میرا”، تمام بیانیوں میں مخالفین کو شکست دینے کے باوجود مسائل حل نہیں ہوئے۔ اب پرامن احتجاج ہی آخری آئینی راستہ ہے، آئین ہر شہری کو اس کا حق دیتا ہے۔