صوبائی حکومت گنڈاپور کیلئے سونے کا انڈا دینے والی مرغی ہے، فیصل کریم کنڈی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
صوبائی حکومت گنڈاپور کیلئے سونے کا انڈا دینے والی مرغی ہے، فیصل کریم کنڈی WhatsAppFacebookTwitter 0 22 June, 2025 سب نیوز
ڈیرہ اسماعیل خان ( محمد ریحان)گورنر خیبرگورنر خیبر پختون خواہ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبر پختون خواہ کی حکومت کسی بھی صورت اپنا اقتدار نہیں کھونا چاہتی انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت وزیراعلی علی امین گنڈاپور کے لیے سونے کا انڈا دینے والی مرغی ہے اور وہ کسی بھی صورت اقتدار نہیں چھوڑ سکتے ہیں وہ صرف بڑھکیں مار رہے ہیں کہ وہ اسمبلی توڑ دیں گے ۔ حالانکہ وہ ایسا نہیں کر سکتے۔ انہوں خیالات کا اظہار انہوں نے ڈیرہ اسماعیل خان کے صحافیوں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
وفد کی قیادت سینئر صحافی چیف ایڈیٹر روزنامہ اعتدال محمد عرفان مغل اور جیو نیوز کے رپورٹر سعید اللہ مروت نے کی ۔ وفد میں محمد ریحان ، نوید سلطان ، ایم صلاح الدین ، احمد مغل ، عبداللہ جان ، حماد ، نصرت ،عادل وقار اور دیگر صحافی شامل تھے ، ملاقات میں ڈیرہ اسماعیل خان کے مسائل عوامی مشکلات پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخواہ کی حکومت اپنا بجٹ کسی بھی طریقے سے پاس کر لے گی کیونکہ عمران خان سے ان کی ملاقات ممکن نہیں ہے اور وہ کوئی حیلہ بہانہ کر کے اپنا بجٹ پاس کرنے کی کوشش کریں گے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ صوبے میں کسی بھی وقت ایمرجنسی کا امکان خارج از امکان نہیں ہے۔ بہرحال علی امین گنڈاپور اپنے اقتدار اور حکومت کو بچانے کے لیے کوئی نہ کوئی حربہ ایسا ضرور استعمال کریں گے جس سے ان کی صوبائی حکومت کو بچایا جا سکے۔ اس موقع پر گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ علاقائی بدامنی انتہائی تشویش ہے ،اس حوالہ سے صوبائی حکومت کی عدم دلچسپی افسوسناک ہے انہوں نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے حوالہ سے مختلف مراحل کا سروے جاری ہے ، لفٹ کینال کے منصوبے میں واپڈا نے ری ٹینڈرنگ کے مرحلہ کا آغاز کردیا ہے اس حوالہ سے فیز وائز منصوبہ بندی کی جارہی ہے
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان کی لوڈ شیڈنگ ناقابل برداشت ہے واپڈا والوں کا یہ موقف کہ ریکوری نہیں ہے اور اسلام آباد سے دبا ہے ، واپڈا اس بات پر متفق ہے کہ فیڈر عوامی اختیار میں دیتے ہیں ریکوری کے مطابق لوڈ شیڈنگ ہوگی ، 91 معاہدہ کے نتیجہ میں پانی کا حق نہیں ملا ، ہم وفاق سے اپنے صوبہ کا حق مانگتے ہیں صوبائی حکومت کو ڈسکوز اپنے اختیار میں لینے چاہیئے ۔ صوبہ میں چوبیس ہزار میں سے چودہ ہزار واپڈا کی آسامیاں خالی ہیں ، اضافی لوڈ شیڈنگ اور کم وولٹیج انتہائی ظلم ہے ۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں شدید گرمی ہے عوام کو شدید مشکلات ہیں واپڈا حکام سے اگلے چند روز میں دوبارہ میٹنگ کرکے اس حوالہ سے بات کی جائے گی ، اگر صوبہ کو بجلی کا اختیار مل جائے تو بہتر ہوگا ، بجلی چوری میں واپڈا اہلکار ملوث ہیں ، انہوں نے کہا کہ انڈس ہائی وے یارک ٹول پلازہ کے حوالہ سے مقامی ابادی کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا سدباب انتہائی ضروری ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین کی عالمی نگرانی میں موجود ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کی شدید مذمت چین کی عالمی نگرانی میں موجود ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کی شدید مذمت ٹرمپ کیلئے نوبل انعام کی سفارش کرنا بلنڈر ہے، لیاقت بلوچ امریکہ نے ایران جنگ کے معاملے پر اپنا وعدہ توڑ دیا، حافظ نعیم الرحمان محرم الحرام، پنجاب میں پہلی بار سائبر پیٹرولنگ اور فوری ریسپانس کی تعیناتی،موبائل فونز کی نگرانی کا فیصلہ پاک بھارت جنگ بندی، بھارتی سیاستدان، میڈیا امریکی صدر ٹرمپ کی کردار کشی کرنے لگے خطے میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے، اسحاق ڈارCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: صوبائی حکومت
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔