اچھی نیند صرف آرام نہیں، صحت، خوبصورتی اور ذہنی سکون کی ضامن ہے
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: نیند ہماری روزمرہ زندگی کا ایک ایسا اہم جزو ہے جسے اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے حالانکہ نیند نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت کے لیے بھی انتہائی ضروری ہے۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق ماہرین صحت کاکہنا ہےکہ اگر آپ ہر رات 7 سے 8 گھنٹے کی معیاری نیند لیتے ہیں تو یہ آپ کی مجموعی صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہے، نیند کی کمی صرف تھکن یا سستی کا باعث نہیں بنتی، بلکہ یہ دل، دماغ، جِلد، ہارمونی نظام، قوتِ مدافعت اور ذہنی کارکردگی سمیت کئی اہم جسمانی نظاموں پر منفی اثر ڈالتی ہے۔
نیند کےبے شمار فوائد ہیں جس میں خوبصورت جِلد کا ہونا، نیند مکمل ہونے کی صورت میں دماغی کارکردگی میں بہتری آتی ہے، وزن میں توازن بھی رہتا ہے اور دل کے امراض سے بھی بچاجاسکتا ہے۔
خوبصورت جِلد (Beauty Sleep):
نیند کے دوران جسم خود کو بحال کرتا ہے، خاص طور پر جِلد کی مرمت کا عمل تیز ہو جاتا ہے۔ 7 سے 8 گھنٹے کی نیند کے بعد چہرہ تروتازہ اور جلد زیادہ صاف نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نیند کو “بیوٹی سلیپ” بھی کہا جاتا ہے۔
دماغی کارکردگی میں بہتری:
نیند دماغ کی فائلنگ سسٹم کی طرح کام کرتی ہے۔ جب ہم سوتے ہیں تو دماغ یادداشت کو ترتیب دیتا ہے، نئی معلومات کو محفوظ کرتا ہے اور جذبات کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ نیند کی کمی ذہنی دباؤ، چڑچڑاہٹ اور ڈپریشن کا باعث بن سکتی ہے۔
قوتِ مدافعت میں اضافہ:
نیند کے دوران جسم مدافعتی نظام کو مضبوط بناتا ہے، جس سے ہم بیماریوں سے بہتر طریقے سے لڑ سکتے ہیں۔ نیند کی کمی نزلہ، زکام اور دیگر وائرل انفیکشنز کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔
وزن میں توازن:
تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جو افراد نیند کی کمی کا شکار ہوتے ہیں، ان میں بھوک کے ہارمونز کا توازن بگڑ جاتا ہے، جس سے وزن بڑھنے کا خطرہ ہوتا ہے۔
دل کی صحت بہتر:
نیند دل کی دھڑکن، بلڈ پریشر اور ہارمونی توازن کو منظم رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ کم نیند لینے والے افراد میں دل کے امراض کا خطرہ زیادہ پایا جاتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نیند کی کمی جاتا ہے نیند کے
پڑھیں:
موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
دین و دنیا پروگرام اسلام ٹائمز کی ویب سائٹ پر ہر جمعہ نشر کیا جاتا ہے، اس پروگرام میں مختلف دینی و مذہبی موضوعات کو خصوصاً امام و رہبر کی نگاہ سے، مختلف ماہرین کے ساتھ گفتگو کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔ ناظرین کی قیمتی آراء اور مفید مشوروں کا انتظار رہتا ہے۔ متعلقہ فائیلیں پروگرام: دین و دنیا
موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
مہمان: عالمہ رافعہ منیر
میزبان : مولانا سید تقی زیدی
پیش کار و مدیر: سید انجم رضا
پیشکش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو
خلاصہ گفتگو:
کربلا میں عشق کے دو بلند ترین مینار ہیں: ایک سرورِ شہداء امام حسین علیہ السلام کی قربانی کا جلوہ، اور دوسرا اس آفتابِ عصمت کی تابناکی، جس کا نام حضرت زینب سلام اللہ علیہا ہے۔ یہیں پر خواتین کا کردار تاریخ کی سب سے درخشاں داستان بن کر ابھرتا ہے۔ بی بی زینبؑ نے نہ صرف اپنی آنکھوں سے بھائی کے لہو کا منظر دیکھا، بلکہ اپنی گفتار اور استقامت سے عاشورہ کی نہضت کو ابدی زندگی عطا کی، یزید کی باطل حکومت کو جوابِ شافی دیا اور اسے اخلاقی شکست کا مزہ چکھایا۔ کربلائی خواتین نے اپنے شوہروں، بھائیوں اور بچوں کو حوصلہ دیا کہ وہ اپنے امام کی راہ میں سبقت کریں؛ چنانچہ چھوٹے سے چھوٹے طفلِ شیرخوار نے بھی لبِ تشنہ سے قربانی کا یہ پیغام جگا دیا کہ عشقِ حسینی میں کسی کو کسی کی پروا نہیں، بس جلوۂ حق ہے اور اس کی خاطر ہر چیز فدا۔
یہ انفرادی جہاد ہی نہیں، بلکہ خواتین کا اجتماعی کردار بھی معاشرے کی تشکیل میں ناقابلِ فراموش حیثیت رکھتا ہے۔ شہیدِ امت، رہبر معظم انقلاب نے بارہا اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ معاشرہ خواتین کے کردار کے بغیر اپنی پختگی اور تکمیل نہیں پا سکتا۔ لہٰذا خواتین کو اپنے ہر شعبۂ زندگی، خاص طور پر علم و تعلیم کے میدان میں کمال حاصل کرنا چاہیے، کیونکہ بعض ذمہ داریاں ایسی ہیں جنہیں مرد انجام نہیں دے سکتے، مگر ایک باہوش، باصلاحیت اور تربیت یافتہ عورت انہیں بہترین انداز میں سرانجام دے سکتی ہے۔ یہی وہ راہ ہے جو کربلا کی درسگاہ سے نکلتی ہے اور ہر دور کی خواتین کو اپنی داخلی قوت کو پہچاننے اور اپنے معاشرتی فرائض کو پورا کرنے کا پیغام دیتی ہے۔