مفتی تقی عثمانی کی امریکا پر شدید تنقید، ایران پر حملے کو “قابل مذمت” قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: ممتاز عالم دین اور مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی تقی عثمانی نے امریکا کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر کیے گئے حملے کو سخت الفاظ میں قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ خود امریکا کے سابقہ وعدوں کی بھی صریح نفی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ “امریکا کا ایران پر حملہ انتہائی قابل مذمت ہونے کے علاوہ ان کے پچھلے وعدوں کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دوسرے ملکوں کو جہنم بنانے کی دھمکیاں دینے والا شخص کیا امن کا انعام حاصل کرنے کا مستحق ہوسکتا ہے؟
خیال رہےکہ مفتی تقی عثمانی ماضی میں بھی عالمی طاقتوں کے دوہرے معیار پر تنقید کرتے رہے ہیں اور امت مسلمہ کو اتحاد، خود داری اور اصولی مؤقف اپنانے کی تلقین کرتے رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مفتی تقی عثمانی
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔