امریکا نے ایران پر حملے کی اطلاع پہلے ہی دے دی تھی، ذرائع
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
ایرانی سیاسی شخصیت کے مطابق امریکی حملوں کی پیشگی اطلاع پر ایرانی حکام نے تیزی کے ساتھ تینوں جوہری تنصیبات سے افزودہ یورینیئم نامعلوم مقام منتقل کر دی۔ امریکی اور ایرانی حکام نے اس خبر پر تبصرے سے گریز کیا ہے جبکہ برطانوی وزیرِ خارجہ برائے بزنس اینڈ ٹریڈ جوناتھن رینالڈز کا کہنا ہے کہ لندن کو حملے کی پیشگی اطلاع مل گئی تھی۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کو اس کی جوہری تنصیبات پر حملے کی اطلاع پہلے ہی دے دی تھی۔ ایرانی میڈیا رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ایک سینئر ایرانی سیاسی شخصیت نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ امریکا نے ایران پر حملے کی اطلاع پہلے ہی دے دی تھی۔ رپورٹ کے مطابق ایرانی شخصیت نے مزید کہا کہ امریکی کی اطلاع ملنے کے بعد ہی ایران جوہری تنصیبات سے افزودہ یورینیئم کے ذخائر نامعلوم مقام پر منتقل کرنے میں کامیاب رہا۔ پاکستانی میڈیا کے مطابق ایرانی سیاسی شخصیت نے یہ بھی کہا کہ واشنگٹن نے ایران کو خفیہ طور پر پہلے ہی بتا دیا تھا کہ امریکا صرف 3 جوہری تنصیبات کو نشانہ بنائے گا اور اطلاع دینے کا مقصد یہ کہنا تھا کہ امریکا ایران کے ساتھ مکمل اور بھرپور جنگ نہیں چاہتا۔ ایرانی سیاسی شخصیت کے مطابق امریکی حملوں کی پیشگی اطلاع پر ایرانی حکام نے تیزی کے ساتھ تینوں جوہری تنصیبات سے افزودہ یورینیئم نامعلوم مقام منتقل کر دی۔ امریکی اور ایرانی حکام نے اس خبر پر تبصرے سے گریز کیا ہے جبکہ برطانوی وزیرِ خارجہ برائے بزنس اینڈ ٹریڈ جوناتھن رینالڈز کا کہنا ہے کہ لندن کو حملے کی پیشگی اطلاع مل گئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایرانی سیاسی شخصیت ایرانی حکام نے کی پیشگی اطلاع جوہری تنصیبات کہ امریکا کے مطابق نے ایران کی اطلاع پہلے ہی حملے کی
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔