امریکی ’جی بی یو ففٹی سیون‘ بم کس طرح ہدف تک پہنچتا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
ایران اسرائیل جنگ میں امریکا کے ایران پر حملے کے امکانات بڑھ گئے ہیں، امریکا ایران پر جی بی یو ففٹی سیون بم سے نشانہ بنا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق امریکی جی بی یو ففٹی سیون بم زیر زمین ہدف کو نشانہ بنانے کی خاصیت رکھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق دیکھنے ميں تو یہ ایک معمول کا بم دکھائی دیتا ہے لیکن ساڑھے تیرہ ٹن سے زيادہ وزنی یہ بم انڈر گراؤنڈ قلعوں کو تباہ کر سکتا ہے۔
جب ایک بی ٹو اسٹیلتھ بمبر اسے تیس ہزار میٹر کی بلندی سے ڈراپ کرتا ہے تو یہ تیزی سے زمین کی طرف آتا ہے، گراؤنڈ کو ہٹ کرتا ہے اور کنکریٹ کو ٹکڑے ٹکڑے کردیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس کا وار ہیڈ ایک معمول کا میٹل ہے، اس کا اسٹیل الائے ہیٹ اور پریشر کے سامنے مزاحمت کرتا ہے اور اسے ٹھوس اسٹیل کی حالت میں برقرار رکھتا ہے اور یقینی بناتا ہے کہ ٹکراؤ کے وقت یہ اپنی مکمل قوت کے ساتھ موجود رہے۔
اس بم کی ایڈجسٹ ایبل ٹیل اسے ٹھیک نشانے پر پہنچنے میں مدد دیتی ہے جس کا پہلے ہی ماہرانہ کیلکولیشن سے اندازہ لگایا گیا ہوتا ہے، لیکن اس کی حقیقی طاقت اس کے اندر ہوتی ہے۔
یہ فوری دھماکہ نہيں کرتا، یہ ہدف کی گہرائی تک جاتا ہے اس کے بعد دھماکے سے پھٹتا ہے، اس کا عمل کچھ یوں ہوتا ہے کہ یہ پہلے ڈرل کرتا ہے، مواد کو گہرائی تک لے کر جاتا ہے پھرے اپنے ہدف تک پہنچ کر پھٹتا ہے۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کرتا ہے
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔