بھارت میں شدید بارشوں کا انتباہ جاری
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی دہلی (انٹرنیشنل ویب ڈیسک) بھارت کی مختلف ریاستوں میں شدید بارشوں کا انتباہ جاری کردیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ملک کی مختلف ریاستوں میںملک گیر مون سون بارش کے نئے سلسلے کے پیش نظر بڑے پیمانے پر انتباہ جاری کردیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بھارت کے جنوب مغربی مون سون مسلسل بھارت کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کی وجہ سے گرج چمک اور تیز ہواو¿ں کا خطرہ ہے۔
آئی ایم ڈی کی جانب سے بھی مذکورہ پیشگوئی کی کہ آنے والے چند دنوں میں مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ، بہار اور اوڈیسہ میں بہت زیادہ بارش ہوسکتی ہے۔
اسی طرح آسام اور میگھالیہ میں بھی شدید طوفانی بارش کا امکان ہے، جبکہ مشرقی مدھیہ پردیش، گجرات کے علاقے اور بہار کے کچھ حصے سیلابوں سے سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :