ایران سے ایک اور پرواز 311 بھارتیوں کو لیکر دہلی پہنچی، اب تک 1400 سے زیادہ شہری وطن واپس
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
بھارت نے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر ایران اور اسرائیل سے بھارتیوں کو واپس لانے کیلئے گزشتہ ہفتے آپریشن سندھو شروع کیا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت نے 300 سے زیادہ بھارتی شہریوں کو ایران سے نکال لیا۔ بھارتی وزارت خارجہ نے بتایا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ اور تین ایرانی جوہری مقامات پر امریکی بمباری کے بعد بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران 311 بھارتی، ایرانی شہر مشہد سے خصوصی پرواز کے ذریعہ دہلی پہنچے۔ انخلاء کی تازہ کارروائی کے بعد ایران سے ملک واپس آنے والوں کی تعداد اب 1428 ہوگئی۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بتایا کہ 311 بھارتی شہری 22 جون کو مشہد سے 1630 بجے ایک خصوصی پرواز سے نئی دہلی پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ ایران سے اب تک کل 1428 بھارتی شہریوں کو نکالا جا چکا ہے۔ بھارت نے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر ایران اور اسرائیل سے بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے گزشتہ ہفتے آپریشن سندھو شروع کیا تھا۔ ایک ہفتہ قبل جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل اور ایران نے ایک دوسرے کے شہروں اور فوجی و اسٹریٹجک تنصیبات پر سینکڑوں میزائل اور ڈرون فائر کیے ہیں۔
اتوار کی صبح تین بڑے ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی بمباری کے بعد کشیدگی میں زبردست اضافہ ہوگیا۔ بھارت نے بدھ کے روز سے ایرانی شہر مشہد، آرمینیا کے دارالحکومت یریوان اور ترکمانستان کے دارالحکومت اشک آباد سے چارٹرڈ پروازوں کے ذریعے اپنے شہریوں کو نکال لیا ہے۔ ایران نے مشہد سے تین چارٹرڈ پروازوں کی سہولت کے لئے جمعہ کے روز فضائی حدود کی پابندیاں ہٹا دیں۔ پہلی پرواز جمعہ کو دیر گئے نئی دہلی میں 290 بھارتیوں کے ساتھ اور دوسری پرواز ہفتہ کی سہ پہر 310 ہندوستانیوں کے ساتھ قومی دارالحکومت پہنچی تھی۔ جمعرات کو آرمینیا کے دارالحکومت یریوان سے ایک اور پرواز نئی دہلی پہنچی تھی، اسی طرح اشک آباد سے انخلاء کی ایک خصوصی پرواز ہفتے کی صبح نئی دہلی پہنچی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بھارت نے ایران سے نئی دہلی کے بعد
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔