تہران (اوصاف نیوز)ایرانی مسلح افواج نے اسرائیلی حکومت کے فوجی اہداف کے خلاف بڑے پیمانے پر میزائل ڈرون آپریشن کی بیسویں لہر شروع کردی۔ ایران کے اعلان کے مطابق اس نے بن گوریون ایئرپورٹ اور حیاتیاتی تحقیقی مراکز کو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنی طرف سے کہا ہے کہ اس نے پہلی بار خیبر میزائل اسرائیل پر داغا ہے۔ ہم نے ابھی تک اپنی کچھ فوجی صلاحیتوں کو فعال نہیں کیا ہے۔

خیبر میزائل کیا ہے؟
فروری 2024 میں ’’ ارنا‘‘ نے رپورٹ کیا تھا کہ خیبر شکن میزائل کو فورتھ جنریشن کا ٹھوس ایندھن کا میزائل سمجھا جاتا ہے۔ اس کی رینج 1,450 کلومیٹر تک ہے اور سیٹلائٹ کے ذریعے گائیڈڈ گائیڈڈ سسٹم کے ذریعے اس کی درستی کو بہتر بنایا گیا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق خیبر میزائل کا تعلق بیلسٹک میزائلوں کے خرمشہر خاندان کی فورتھ جنریشن سے ہے۔ اس سے پہلے کی تھری جنریشنز میں فرسٹ جنریشن خرمشہر-1 کو پہلی بار 2017 میں مقدس دفاعی ہفتہ کے موقع پر ایک فوجی پریڈ کے دوران منظر عام پر لایا گیا تھا۔ اس کی لمبائی 13 میٹر اور قطر 1.

5 میٹر تھا۔

سیکنڈ جنریشن خرمشہر-2 کو 2019 میں منظر عام پر لایا گیا۔ یہ گائیڈڈ وار ہیڈز سے لیس تھا اور اس کا وزن تقریباً 20 ٹن تھا۔ مئی 2023 میں تہران نے خرمشہر-3 کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کیے بغیر خرمشہر-4 کی نقاب کشائی کردی تھی۔ وزارت دفاع کے قریبی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی کہ اسے تیار کیا گیا تھا اور اس کی اعلیٰ تکنیکی صلاحیتوں پر فخر کیا گیا تھا تاہم سکیورٹی وجوہات کی بناء پر خیبر میزائل کی تکنیکی صلاحیتوں کا کا انکشاف نہیں کیا گیا۔

خیبر میزائل ایران کے میزائل سسٹم میں ایک کوالٹی لیپ کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس کے زیادہ دھماکہ خیز وار ہیڈ کا وزن 1500 کلو گرام ہے۔ اس کی رفتار غیر معمولی ہے۔ یہ فضا سے باہر 19,584 کلومیٹر فی گھنٹہ اور اس کے اندر تقریباً 9,792 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ جاتا ہے۔ اس وجہ سے اسے روایتی فضائی دفاعی نظام، جیسے پیٹریاٹ یا ڈیوڈز سلنگ کے ذریعے روکنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔

الحرس الثوري الإيراني: أطلقنا صاروخ خيبر لأول مرة على إسرائيل#قناة_العربية #إيران #إسرائيل pic.twitter.com/dtK7w22Z5P

— العربية (@AlArabiya) June 22, 2025


اکیلا وار ہیڈ 4 میٹر لمبا ہے۔ اس کی سب سے نمایاں خصوصیات میں سے ایک اس میں پنکھوں کی کمی ہے جو رگڑ کو کم کرتی ہے اور رہنمائی کی درستی اور رفتار کو بڑھانے میں مدد کرتی ہے۔ خیبر میزائل اپنی تیز رفتار تیاری کی وجہ سے بھی ممتاز ہے۔ اسے لانچ کی تیاری میں 15 منٹ سے زیادہ وقت نہیں لگتا۔ یہ ایک موبائل پلیٹ فارم سے لانچ کیا جاتا ہے اور مائع ایندھن سے چلتا ہے جسے ٹینکوں میں تین سال تک ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کی شیلف لائف 10 سال تک ہے۔

خیبر مقامی طور پر تیار کردہ ایک انجن سے چلتا ہے جسے اروند کہتے ہیں۔ یہ ایران کے ہتھیاروں میں مائع ایندھن کے جدید ترین انجنوں میں سے ایک ہے۔ انجن کو ایندھن کے ٹینک میں ضم کیا جاتا ہے جس سے میزائل کی لمبائی کم ہوتی ہے اور اس کے اڑنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس وجہ سے سیٹلائٹ یا نگرانی کے نظام کے ذریعے اسے ٹریک کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ایران پراکسی وار کے ذریعے امریکی اڈوں پر حملے کی تیاری کررہا ہے: نیویارک ٹائمز کا دعویٰ

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کے ذریعے جاتا ہے ہے اور اور اس

پڑھیں:

ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل

تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔

عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔

عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔

ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔

Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.

Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.

— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) July 24, 2026

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم