شامی دارالحکومت دمشق کے چرچ میں خودکش دھماکہ، 15 افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
شام(نیوز ڈیسک)شام کے دارالحکومت دمشق کے ایک چرچ میں ہونے والے خود کش دھماکے کے نتیجے میں 15 افراد ہلاک ہوگئے۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق اتوار کے روز شام کے دارالحکومت دمشق کے دوویلا محلے میں واقع مار ایلیاس چرچ میں ایک خودکش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہوئے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بشار الاسد کی اقتدار سے بے دخلی کے بعد دمشق میں ہونے والا یہ پہلا خودکش حملہ ہے۔
شام کی وزارت داخلہ نے اپنے بیان میں کہا کہ خودکش بمبار کا تعلق داعش سے تھا جبکہ اس نے چرچ میں داخل ہونے کے بعد فائرنگ کی اور پھر اپنی دھماکہ خیز جیکٹ سے خود کو اڑا لیا۔
ایجنسی کے مطابق ایک سیکیورٹی ذریعے نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ حملے میں دو افراد ملوث تھے جن میں سے ایک نے خود کو دھماکے سے اڑایا۔
شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے وزارت صحت کے حوالے سے ابتدائی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 9 اور زخمیوں کی تعداد 13 بتائی۔
شام کی سول ڈیفنس (وائٹ ہیلمٹس) کی جانب سے حملے کی جگہ سے لائیو سٹریم کی گئی فوٹیج میں گرجا گھر کے اندر تباہی کے مناظر دکھائے گئے جن میں خون آلود فرش، ٹوٹے ہوئے بینچ اور عمارت کے ڈھانچے کو نقصان شامل ہے۔
کولمبیا میں 57 فوجیوں کو شہریوں نے اغوا کر لیا
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں
یورپی چیمپئنز لیگ میں پی ایس جی کی کامیابی کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن پرتشدد ہنگاموں میں تبدیل ہو گیا۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں، جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے واقعات میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ پولیس نے 400 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔
یورپی چیمپئنز لیگ کے فائنل میں پی ایس جی کی فتح کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن کا ماحول بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا، جہاں مشتعل افراد نے جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں مظاہرین نے بوتل بم پھینکے، متعدد دکانوں پر حملے کیے اور سڑکوں پر موجود کچرے کے ڈبوں سمیت دیگر اشیا کو آگ لگا دی۔ ہنگامہ آرائی کے دوران درجنوں گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم سات پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ بعض شرپسند عناصر نے آتش بازی کا رخ آسمان کے بجائے پولیس اہلکاروں کی جانب کر دیا، جس کے باعث کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔
فرانسیسی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 400 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے تیزاب سے بھری بوتلیں اور دیگر خطرناک مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔
حکام کو پہلے ہی ممکنہ ہنگامہ آرائی کا خدشہ تھا، جس کے پیش نظر پیرس میں 22 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ اس کے باوجود شہر کے مختلف حصوں میں جلاؤ گھیراؤ اور پرتشدد واقعات کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہ ہو سکا۔
واضح رہے کہ پیرس سینٹ جرمین (PSG) نے چیمپئنز لیگ کے فائنل میں آرسنل کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا، جس کے بعد ہزاروں شائقین جشن منانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ تاہم بعض مقامات پر یہ جشن بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں