حکومت کے وفاقی بجٹ کی حمایت کرتا ہوں: بلاول بھٹو زرداری
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
اسکرین گریب
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی بجٹ کی حمایت کردی، قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کے وفاقی بجٹ کی حمایت کرتا ہوں، پاکستان کو جنگ کی تیاری کرنا ہے اس لیے دفاعی بجٹ میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم، وزیر خزانہ، وزیر خارجہ کا شکریہ کہ اس دفعہ انہوں نے بجٹ پر پیپلز پارٹی کو انگیج کیا، ہم چاہتے تھے کہ تنخواہ اور پنشن میں مزید اضافہ کیا جائے، یہ اچھا اقدام ہے کہ حکومت نے تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کیا۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی خواہشات تھیں جو ہم بجٹ میں حاصل نہیں کر سکے، چاہتے تھے کہ پی ایس ڈی پی میں جنوبی پنجاب کو پنجاب کا 30 فیصد حصہ دلایا جائے، وزیر خزانہ نے کہا کہ اگلے بجٹ میں ہم بیٹھ کر کوشش کریں گے۔
یہ بھی پڑھیے جھوٹ کی بنیاد پر ایران پر حملہ کیا گیا: بلاول بھٹو زرداری بھارت سندھ طاس معاہدہ مان لے یا جنگ کیلئے تیار رہے: بلاول بھٹو زرداریان کا کہنا تھا کہ چاہتے تھے بلوچستان اور خیبر پختونخوا کو وفاقی حکومت فیڈرل فنڈنگ کی صورت میں سپورٹ کرے، بلوچستان اور خیبر پختونخوا دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہیں، ہم حکمت عملی بنائیں کہ دہشت گردوں کو ہرا سکیں، بھارت بلوچستان اور کے پی میں دہشت گردوں پر خرچ کر رہا ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ کسانوں کا معاشی قتل ہو رہا ہے، زرعی ایمرجنسی ڈکلیئر کی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو زرداری پیپلز پارٹی نے کہا کہ
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔