لاہور، قرآن و اہلبیتؑ اکیڈمی کا ایران کے حق میں احتجاجی مظاہرہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
مقررین کا کہنا تھا کہ ایران پاکستان کا دوست اور پڑوسی ملک ہے، ہم ایران پر حملے کی پرزور مذمت کرتے ہیں، پوری امت ایران کیساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین کبھی ایران کیخلاف استعمال نہیں ہوگی، امریکہ ایران پر حملہ کرکے باقاعدہ اس جنگ کا فریق بن گیا ہے، اب اسرائیل کیساتھ ساتھ اسے بھی ایسا سبق سکھایا جائے گا کہ تاریخ یاد رکھے گی۔ اسلام ٹائمز۔ قرآن واہلبیتؑ اکیڈمی لاہور کے زیراہتمام لاہور پریس کلب کے سامنے امریکہ و اسرائیل کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے امریکہ و اسرائیل سمیت باطل قوتوں کے ظلم و بربریت کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ مظاہرین نے ایران کیساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ مظاہرے کی قیادت خانم سکینہ مہدوی نے کی جبکہ خانم ہما تقوی سمیت دیگر بھی شریک ہوئیں۔ مظاہرے میں ایم ڈبلیو ایم کے رہنما علامہ حسن رضا ہمدانی سمیت مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ شرکاء نے وطن عزیز پاکستان کی پاک فوج کی حق کیساتھ حمایت پر سلام اور خراج تحسین پیش کیا۔ مقررین نے کہا کہ امریکہ و اسرائیل نے آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی بھی جرات کی تو ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ جنگ ایران اور اسرائیل کی نہیں بلکہ یہ کفر اور اسلام کی جنگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے غیور عوام ملتِ اسلام کے عظیم قائد رہبر معظم سید علی خامنہ ای اور ایران کیساتھ ہیں۔ علامہ حسن رضا ہمدانی نے ’’اسلام ٹائمز‘‘ سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ مسلمان پرامن امت ہیں،تاہم اگر کوئی ان پر جنگ مسلط کرے گا تو اسے منہ توڑ جواب دیا جائے گا، ایران پاکستان کا دوست اور پڑوسی ملک ہے، ہم ایران پر حملے کی پرزور مذمت کرتے ہیں، پوری امت ایران کیساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین کبھی ایران کیخلاف استعمال نہیں ہوگی، امریکہ ایران پر حملہ کرکے باقاعدہ اس جنگ کا فریق بن گیا ہے، اب اسرائیل کیساتھ ساتھ اسے بھی ایسا سبق سکھایا جائے گا کہ تاریخ یاد رکھے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ ایران کیساتھ اسرائیل کی ایران پر
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔