امریکی جارحیت ،جماعت اسلامی کا آج یوم احتجاج کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
ایران پر حملے سے امریکا ،اسرائیل کی پشت پناہی کے بعد اب کھل کر سامنے آگیا
پور ے ملک میں امریکہ مردہ آباد نعرے کے تحت احتجاج کیا جائے، حافظ نعیم الرحمان
جماعت اسلامی نے امریکہ کی طرف سے ایران پرہونے والی جارحیت کے خلاف ملک بھر میں آج (پیر کو) یوم احتجاج منانے کا اعلان کردیا۔امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے ایران پر امریکا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی پشت پناہی کے بعد اب واشنگٹن کھل کر سامنے آگیا ہے ۔اسلام آباد سے جاری ایک بیان میں امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ امریکی جارحیت دنیا کا امن تباہ کرنے کے مترادف ہے ۔ امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے خلاف مسلم امہ کومتحد ہوناہوگا۔حافظ نعیم الرحمٰن نے تمام ذمہ داران کو ہدایت کی ہے کہ پیر کو پور ے ملک میں امریکہ مردہ آباد نعرے کے تحت احتجاج کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ نے یہ جنگ فوری طورپر بند نہ کی تو آنے والے دنوں میں ملک گیر احتجاجی تحریک کو مزید منظم کیا جائے گا۔دریں اثنا اسلام آباد میں یوتھ ڈیجیٹل سمٹ سے خطاب میں حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ کل ٹرمپ نے بیان دیا کہ ہم دو ہفتے انتظار کریں گے پھر کوئی ایکشن لیں گے مگر ٹرمپ نے پہلے ہی دن اپنے وعدے کو توڑ دیا۔انہوں نے کہا کہ امریکہ اخلاقی طور پر کسی بھی چیز کو خاطر میں نہیں لا رہا صرف طاقت سے بات کر رہا ہے ، امریکہ کا زوال شروع ہو چکا، دنیا بھر کے با ضمیر انسانوں کا ظالموں کے خلاف اتحاد ہونا چاہیے ، پچھلے پونے دو برس سے اسرائیل فلسطین میں مسلمانوں کا قتل عام کر رہا ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔