جماعت اسلامی کا ایران پر امریکی جارحیت کے خلاف کل یوم احتجاج کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
حافظ نعیم الرحمٰن نے تمام ذمہ داران کو ہدایت کی ہے کہ پیر کو پور ے ملک میں امریکہ مردہ آباد نعرے کے تحت احتجاج کیا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی نے امریکہ کی طرف سے ایران پرہونے والی جارحیت کے خلاف ملک بھر میں کل (پیر کو) یوم احتجاج منانے کا اعلان کر دیا۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے ایران پر امریکا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی پشت پناہی کے بعد اب واشنگٹن کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ اسلام آباد سے جاری ایک بیان میں امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ امریکی جارحیت دنیا کا امن تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے خلاف مسلم امہ کو متحد ہونا ہو گا۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے تمام ذمہ داران کو ہدایت کی ہے کہ پیر کو پور ے ملک میں امریکہ مردہ آباد نعرے کے تحت احتجاج کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ نے یہ جنگ فوری طورپر بند نہ کی تو آنے والے دنوں میں ملک گیر احتجاجی تحریک کو مزید منظم کیا جائے گا۔ دریں اثنا اسلام آباد میں یوتھ ڈیجیٹل سمٹ سے خطاب میں حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ کل ٹرمپ نے بیان دیا کہ ہم دو ہفتے انتظار کریں گے پھر کوئی ایکشن لیں گے مگر ٹرمپ نے پہلے ہی دن اپنے وعدے کو توڑ دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اخلاقی طور پر کسی بھی چیز کو خاطر میں نہیں لا رہا صرف طاقت سے بات کر رہا ہے، امریکہ کا زوال شروع ہو چکا، دنیا بھر کے با ضمیر انسانوں کا ظالموں کے خلاف اتحاد ہونا چاہیے، پچھلے پونے دو برس سے اسرائیل فلسطین میں مسلمانوں کا قتل عام کر رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی حافظ نعیم کے خلاف
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔