Express News:
2026-07-24@04:21:39 GMT

ایران اسرائیل جنگ

اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT

برطانوی وزیر اعظم نے گزشتہ دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مشورہ دیا کہ وہ فوجی کارروائی سے پیچھے ہٹ جائے جب کہ روسی اور چینی صدر نے متنبہ کیا کہ تنازعے میں امریکی فوجی مداخلت کے سنگین اور ناقابل بیان نتائج ہونگے ۔ دونوں صدور نے ٹیلیفونک گفتگو میں ایران پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی۔

صدر پیوٹن نے کہا ایران نے اسرائیلی حملوں کے باوجود کوئی فوجی امداد نہیں مانگی ہے ۔ عراق میں اسرائیل کے ایران پر حملے کے خلاف لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے جس میں بڑی تعداد میں علماء بھی شامل تھے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری کیے گئے بیان میں ایران پر حملے کے منصوبے کی منظوری کو مستردکردیا تھا۔

 ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی اخبار کو آئیڈیا نہیں کہ میں ایران کے بارے میں کیا سوچ رہا ہوں ۔ ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولین لیویٹ نے کہا تھا کہ امریکی صدر ایران سے مذاکرات کا فیصلہ آیندہ دوہفتوں میں کریں گے ۔ روس نے خبردار کیا تھا کہ ایرانی بوشہر ایٹمی پلانٹ پر اسرائیل کا حملہ چرنوبل جیسے سانحے کا سبب بن سکتا ہے ۔

پہلے دن اسرائیل کے حملے کے بعد ایران نے اسرائیل پر جو جوابی حملہ کیا اس سے پوری دنیا حیران رہ گئی ۔ اس سے پہلے دوست ہوں یا دشمن سب سمجھتے تھے کہ ایران اسرائیل کا مقابلہ نہیں کر سکتا ۔ خود امریکا کا بھی یہی خیال تھا ۔جب کہ ایرانی بلاسٹک میزائل حملوں نے تل ابیب، حیفہ سمیت بیشتر اسرائیلی شہروں کو تباہ کن نقصان پہنچایا جس میں ایٹمی مراکز اور ایک حساس سیکیورٹی مرکز جو حیاتاتی تحقیقاتی مطالعہ سے متعلق ہے کے ساتھ جنوبی اسرائیل میں ایک فوجی بیس اور انٹیلی جنس ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ 

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایک ایرانی میزائل ہیڈ کلسٹر بم بھی ہے جو زمین سے 7کلومیٹر کی بلندی پر کئی چھوٹے بموں میں تقسیم ہو جاتا ہے ۔ اور ان میں سے ہر ایک کا اثر 8کلومیٹر کے دائرے میں ہوتا ہے ۔ ان حملوں کے نتیجے میں اسرائیلی اسٹاک ایکسچینج کی عمارت کھنڈر بن گئی ہے وہ اسرائیلی صیہونی جو غزہ میں قتل عام پر جہاں روزانہ 50سے 100فلسطینی شہید ہو رہے ہیں یہ لوگ سڑکوں پر نکل کر اس قتل عام پر جشن مناتے تھے۔ 

اب اسرائیلی شہروں میں وسیع پیمانے پر تباہی سے شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں ۔ ان کو اور ان کے حمایتیوں امریکا اور اس کے اتحادیوں کو یقین تھا کہ اسرائیل ناقابل تسخیر اور اس کی فضائیں محفوظ ہیں ۔ ایرانی میزائلوں نے اس تصور کو پاش پاش کرکے رکھ دیا ہے ۔

یہ اعلیٰ تعلیم یافتہ بظاہر مہذب اس مذہبی مفروضے پر یقین رکھتے ہیں کہ ماضی میں ڈیڑھ دو ہزار برس پہلے یہودیوں پر جو ظلم ہوئے اب ان کا بدلہ فلسطین میں بسنے والے موجودہ فلسطینیوں سے لیا جائے ۔ یہ ہے ان کا مائنڈ سیٹ جو ذہنی پستی کی انتہاء کو ظاہر کرتا ہے ۔

امریکی نیشنل انٹیلی جنس کے سربراہ کے بعد انٹرنیشنل اٹامک انرجی کے سربراہ رافیل گروسی نے بھی امریکا اور اسرائیل کے ایران پر ایٹمی ہتھیار بنانے کے الزام کی تردید کردی ۔ رافیل گروسی نے کہا تھا کہ اب تک کے مشاہدے اور تجربات سے ثابت ہوا کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کر رہا تھا ۔

ہمیں ایران پر 60فیصد یورنیم افزدہ کرنے کے شبہات تھے لیکن ہم نے کبھی نہیں کہا کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنارہا ہے ۔ یادرہے کہ امریکا کی قومی سلامتی کی ڈائریکٹر نے بھی مارچ 2025میں کہا تھا کہ ان کی انٹیلی جنس کے مطابق ایران ایٹمی ہتھیار نہیں بنا رہا بلکہ آیت اﷲ خامنہ ای نے ایٹمی ہتھیاروں کی اجازت ہی نہیں دی۔

جب کہ ایسی مصدقہ اطلاعات بھی ہیں کہ اسرائیل نے اس عالمی ایٹمی ایجنسی پر دباؤ ڈال کر یہ رپورٹ جاری کروائی کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنا رہا ہے ۔ اسی جعلی رپورٹ کو بہانہ بنا کر اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا ۔ ایک امریکی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ شام میں بشارالاسد حکومت گرانا اور حزب اﷲ کو کمزور کرنا ایک حکمت عملی تھی جس سے ایران تک فضائی راستہ کھل گیا۔

برطانوی میڈیا اسرائیل ایران تنازعہ پر امریکی صدر کے بدلتے ہوئے بیانات پر برس پڑا اور انھیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا ایک امریکی ٹی وی نے حال ہی میں صدر ٹرمپ کا دو کا پہاڑہ پڑھنے پر ان کا مذاق اڑایا جو پچھلے چھ مہینے سے درجنوں مسئلے کا حل ٹو ویک بتا رہے ہیں ۔

یہ انتہائی اطمینان بخش بات ہے کہ فیلڈ مارشل آصف منیر اور امریکی صدر ٹرمپ کی ملاقات کے بعد پاکستان کی پالیسی ایران کی بابت سو فیصد وہی ہے ۔ ایک باخبر ذریعے نے پر زور لیکن مختصر بیان دیا کہ صد فیصد وہی پالیسی ہے ۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ سابق بھارتی انٹیلی جنس چیف امرجیت سنگھ دولت نے کہا ہے کہ ایران اسرائیل جنگ بندی میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار اہم ہو سکتا ہے ۔ اﷲ کرے ایسا ہی ہو۔

ایرانی رہبر سید علی خامنہ ای نے حال ہی میں قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میری جان کی کوئی قیمت نہیں ۔ ایک ناقص جسم ہے اور تھوڑی سی شہرت جو آپ لوگوں نے دی ہے ۔ میں نے سب کچھ اسلام اور اس انقلاب کے لیے رکھا ہوا ہے ۔ میں سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار ہوں سنت سیدنا امام حسین ؑ کی طرح ۔

مزید اہم تاریخیں 24,25,26,27جو ن ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایران ایٹمی ہتھیار انٹیلی جنس امریکی صدر میں ایران کہ ایران ایران پر ہیں کہ اور اس اور ان تھا کہ کی صدر نے کہا

پڑھیں:

امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل

امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل تیرہویں رات بھی فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ’بہت بڑے حملے‘ کا فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جارحیت میں مزید اضافہ ہوا تو اس کی قیمت واشنگٹن کو پہلے سے کہیں زیادہ چکانا پڑے گی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق تازہ کارروائی 2 گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس کے دوران ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت، بالخصوص ساحلی نگرانی، فضائی دفاع اور فوجی انفراسٹرکچر کو مزید کمزور کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے ابھی تک ’کافی تکلیف نہیں دیکھی‘ اور وہ ایک بڑے پیمانے کے حملے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ امریکی صدر کے اس بیان نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے اور عالمی سطح پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’بے معنی جارحیت‘ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے امریکا کو زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

???? 13TH STRAIGHT NIGHT OF POUNDING IRAN.

U.S. forces just completed another round of strikes on Iranian military targets.

Command centers.

Drone storage.

Communication networks.

Coastal surveillance.

Maritime capabilities.

AMERICA KEEPS WINING ✌️???????????????? https://t.co/0y5aM7FeEr pic.twitter.com/0AWYpSnco6

— Xander Xand (@Xander24Xand) July 24, 2026

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تہران، خنداب، خرم آباد، کنارک اور جاسک سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں، میزائل حملوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض علاقوں میں فضائی دفاعی نظام نے آنے والے اہداف کو روکنے کی کوشش کی، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔

دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس کے مفادات یا سرزمین کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو اس کی مسلح افواج دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ بیان ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی بمبار طیارے برطانوی اڈوں سے ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہوئے تو ان اڈوں کو بھی ممکنہ اہداف سمجھا جا سکتا ہے۔

???????? U.S. STRIKES IRAN FOR 13TH CONSECUTIVE NIGHT

The U.S. military has launched another round of strikes against Iran, marking the 13th consecutive night of attacks.

CENTCOM: “US forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET (2245 GMT)… pic.twitter.com/iDXtuU2CJE

— Mossad Commentary (@MOSSADil) July 24, 2026

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنگ کے پھیلنے سے عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں مزید عسکری کارروائیاں پورے خطے کو ایک بڑے بحران میں دھکیل سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ایران خلیج صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم