UrduPoint:
2026-06-02@23:26:58 GMT
امریکہ کا قطر میں اپنے شہریوں کو محفوظ پناہ گاہوں میں قیام کا مشورہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
دوحہ ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 جون2025ء ) امریکہ نے قطر میں اپنے شہریوں کو محفوظ پناہ گاہوں میں قیام کا مشورہ دے دیا، امریکی ایڈوائزری پر اپنے ردعمل میں خلیجی ملک نے سکیورٹی مستحکم ہونے کی یقین دہانی کرادی۔ العربیہ نیوز کے مطابق قطر میں امریکی سفارت خانے نے پیر کے روز خلیجی ملک میں مقیم اپنے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اگلی اطلاع تک محفوظ مقام پر پناہ لیں، اس ضمن میں قطر میں شہریوں کو بھیجی جانے والی ای میل میں اور امریکی سفارت خانے نے کہا کہ "بہت زیادہ احتیاط کے ساتھ ہم امریکی شہریوں کو اگلی اطلاع تک پناہ گاہ میں رہنے کی سفارش کرتے ہیں۔
اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے قطر نے یقین دہانی کروائی ہے کہ اس کی سکیورٹی کی صورتحال مستحکم ہے، وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصار کا کہنا کہ امریکی سفارت خانے کی ایڈوائزری میں کسی خاص خطرے کی موجودگی کی نشاندہی نہیں کی گئی، تاہم قطر اپنے شہریوں اور رہائشیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے۔(جاری ہے)
بتایا جارہا ہے کہ ایران نے کہا ہے کہ اس کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے نے اس کی مسلح افواج کے لیے جائز اہداف کا دائرہ بڑھا دیا ہے، ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اسلامی جمہوریہ کے خلاف اسرائیل کی فوجی مہم میں شامل ہونے کے لیے "جواری" قرار دیا، اس کے جواب میں امریکہ نے اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان بیرون ملک اپنے شہریوں کے لیے دنیا بھر میں احتیاط کا سکیورٹی الرٹ بھی جاری کیا۔ ایک بیان میں امریکیوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ ’وہ زیادہ احتیاط برتیں اور بیرون ملک امریکی شہریوں اور مفادات کے خلاف ممکنہ مظاہروں سے خبردار رہیں‘، علاوہ ازیں امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے اسرائیل ایران تنازعہ کی وجہ سے ہوائی سفر میں رکاوٹوں اور مشرق وسطیٰ میں فضائی حدود کی بندش کی بھی نشاندہی کی گئی۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اپنے شہریوں شہریوں کو کے لیے
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔