جنگ کا آغاز امریکا نے کیا لیکن ختم ہم کریں گے: ترجمان ایرانی سینٹرل کمانڈ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایران نے امریکا کو دوٹوک انداز میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کی چنگاری تم نے سلگائی، لیکن شعلوں کو بجھانا ہمارا کام ہوگا۔
ایرانی مسلح افواج کی مرکزی کمان کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے اپنے سخت لہجے میں کہا کہ امریکی حملوں نے نہ صرف خطے کے توازن کو بگاڑا ہے بلکہ ایران کی دفاعی حکمت عملی کو بھی نئے زاویے عطا کیے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اب ایران کے لیے جائز اہداف کی فہرست طویل ہو چکی ہے اور امریکا کو جلد ہی ایسے طاقتور اور دور رس نتائج رکھنے والے ردعمل کا سامنا ہوگا جس کی شاید اسے توقع نہ ہو۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکا کے براہ راست تنازع میں ملوث ہونے کے بعد اب ایران ہر محاذ پر اپنی خودمختاری، سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، اور امریکی جارحیت کے خلاف ہر سطح پر جواب دیا جائے گا۔
ابراہیم ذوالفقاری نے اپنے بیان کے اختتام پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ’جواری‘ قرار دیا اور دوٹوک انداز میں کہا، ’’مسٹر ٹرمپ! یہ جنگ تم نے شروع کی ہے، لیکن انجام تک ہم پہنچائیں گے۔‘‘
ترجمان کا یہ بیان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں ایک واضح پیغام سمجھا جا رہا ہے کہ ایران اب دفاع سے بڑھ کر جارحانہ حکمت عملی اختیار کرنے کو تیار ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوچکی اور مذاکرات کی بھیک نہیں مانگی جا رہی۔ ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات "انتہائی ٹیکنیکل" معاملہ ہے۔ جو 5 دن میں طے نہیں ہوسکتا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو ایران کے معاملے پر آڑے ہاتھوں لیا۔ سینیٹ میں پیشی کے موقع پر کوری بُکر نے کہا کہ آخر امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے۔؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے کہا کہ ڈیل بھی ایسی جسے خود امریکا ہی پہلے کچرے کے ڈبے میں پھینک چکا تھا۔ ایران نے آبنائے ہرمز بند کی ہوئی ہے۔ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوچکی اور مذاکرات کی بھیک نہیں مانگی جا رہی۔
ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات "انتہائی ٹیکنیکل" معاملہ ہے۔ جو 5 دن میں طے نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین کی میٹنگز ایک مہینہ، دو مہینے یا تین مہینوں تک بھی چل سکتی ہے۔ ایران کو انتہائی افزودہ یورینیم کی تلفی کے حوالے سے مذاکرات کا عہد کرنا ہوگا۔ مارکو روبیو کے مطابق آج ایران اپنے ایٹمی پروگرام کے جن پہلووں پر بات کرنے کو راضی ہوگیا ہے، پہلے ان پر انکاری تھا۔