ایران پر امریکی حملے کے بعد خلیجی ممالک میں تابکاری میں اضافہ نوٹ نہیں کیا گیا، سعودی عرب کی تصدیق
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
ریاض (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 جون2025ء) سعودی عرب نے تصدیق کی ہے کہ ایران پر امریکی حملے کے بعد خلیجی ممالک میں تابکاری میں اضافہ نوٹ نہیں کیا گیا۔ مملکت کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق سعودی عرب اور دیگر خلیجی ملکوں میں تابکاری کے کوئی اثرات نہیں پائے گئے، اس حوالے سے سعودی نیوکلیئر اینڈ ریڈیالوجیکل ریگولیٹری کمیشن نے جاری بیان میں کہا ہے کہ امریکہ کے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کے بعد مملکت یا خلیجی خطے میں کوئی تابکار اثرات نہیں پائے گئے ہیں، کمیشن نے یہ بیان ایران کے تین اہم جوہری مقامات پر امریکی فضائی حملوں کے بعد جاری کیا گیا ہے، بیان میں کہا گیا کہ سعودی عرب اور خلیج کا ماحول محفوظ ہے، امریکی حملوں کے نتیجے میں تابکاری کے آثار نہیں ملے۔
(جاری ہے)
اسی طرح بین الاقوامی اٹامک توانائی ایجنسی نے بھی کہا کہ ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی فضائی حملوں کے بعد باہر کی سطح پر تابکاری میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، کویت کے نیشنل گارڈ کا بھی کہنا ہے کہ کویت کی فضا اور پانیوں میں تابکاری کی سطح مستحکم اور صورتحال معمول کے مطابق ہے، علاوہ ازیں مصر کی ایٹمی اور ریڈیو لوجیکل ریگولیٹری اتھارٹی نے گزشتہ روز تصدیق کی کہ ملک میں تابکاری کے کوئی اثرات نہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے میں تابکاری پر امریکی کے بعد
پڑھیں:
امریکی سفارت کاری نہیں، میزائلوں کی زبان سمجھتے ہیں، ایران
ایکس پر جاری بیان میں قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے کہا ہے کہ امریکیوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ سفارت کاروں کی نہیں بلکہ میزائلوں کی زبان بہتر سمجھتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے امریکا پر سخت تنقید کی ہے۔ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ امریکیوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ سفارت کاروں کی نہیں بلکہ میزائلوں کی زبان بہتر سمجھتے ہیں۔ ابراہیم رضائی نے ایرانی مسلح افواج خصوصاً پاسداران انقلاب کی بحری اور فضائی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی فضائیہ نے کہا ہے کہ اس نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر، ایک فضائی اڈے اور خطے میں موجود دیگر امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق یہ کارروائی قشم جزیرے کے جنوب میں ایک مواصلاتی ٹاور پر امریکی حملے کے جواب میں کی گئی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر پر مبینہ امریکی حملے کے بعد اس نے ایک ایسے بحری جہاز کو بھی نشانہ بنایا جسے ایران نے امریکی اور اسرائیلی مفادات سے منسلک قرار دیا۔