سابقہ اداکارہ اریج فاطمہ نے حجاب کرنا شروع کردیا، تصاویر وائرل،سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
پاکستان شوبز کی سابقہ اداکارہ اریج فاطمہ نے حجاب کرنا شروع کردیا ہے جن کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں تاہم انہیں سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اریج فاطمہ 2017 میں رشتہ ازدواج سے منسلک ہوئی تھیں اور 2019 میں شوبز کو خیرباد کہہ کر اپنے شوہر کے ہمراہ بیرون ملک منتقل ہوگئی تھیں۔ اب اداکارہ نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں ایک بڑی تبدیلی لانے کا فیصلہ کرتے ہوئے حجاب کرنا شروع کردیا ہے۔
تاہم سابقہ اداکارہ نے اپنی ایک حالیہ ویڈیو کے ساتھ کیپشن میں بتایا ہے کہ انہیں حجاب کرنے کے بعد سے شدید تنقید کا سامنا ہے اور لوگ انہیں طرح طرح کے میسج کر رہے ہیں۔ اریج فاطمہ نے کہا کہ جو ان کے دل کو ٹھیک لگا انہوں نے وہی کیا اور آگے بھی وہی کریں گی جو اللہ انہیں ہدایت دے گا۔
اریج فاطمہ کا نے ناقدین کو منہ توڑ جواب دیتے ہوئے کہا کہ جب سے انہوں نے حجاب میں تصاویر اور ویڈیوز پوسٹ کرنا شروع کی ہیں لوگ سمجھنے لگے ہیں کہ میرے بارے میں فیصلہ کرنا ان کا کام ہے۔ حجاب پہننے کا انتخاب کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں نے کسی کی رائے مانگی ہے یا غیر مطلوبہ مشورے کے لیے سائن اپ کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا پر اریج فاطمہ
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔