پی ایس ایل ٹرافی امن و آشتی کے پیغام کیساتھ پاراچنار پہنچ گئی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
اس سلسلے میں سپورٹس کمپلیکس پاراچنار میں رنگا رنگ تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ضلعی انتظامیہ، پاک فوج، پولیس، سپورٹس ڈیپاٹمنٹ، قبائلی عمائدین، سیاسی و سماجی رہنماؤں اور کھلاڑیوں نے شرکت کی۔ اسلام ٹائمز۔ پی ایس ایل کی فاتح ٹیم لاہور قلندر کے اونر عاطف رانا اور لاہور قلندر کے معروف بیٹسمین نعیم منگل نے ٹرافی کے ہمراہ امن و آشتی کا پیغام لیکر پاراچنار کا دورہ کیا۔ اس سلسلے میں سپورٹس کمپلیکس پاراچنار میں رنگا رنگ تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ضلعی انتظامیہ، پاک فوج، پولیس، سپورٹس ڈیپاٹمنٹ، قبائلی عمائدین، سیاسی و سماجی رہنماؤں اور کھلاڑیوں نے شرکت کی۔ تقریب کو دیکھنے کیلئے تماشائیوں کی بڑی تعداد سپورٹس کمپلیکس میں موجود تھی، اس موقع پر اپنے خطاب میں لاہور قلندر کے اونر عاطف رانا کا کہنا تھا کہ ان کے آنے کا مقصد پاراچنار ضلع کرم کو امن کا پیغام دینا اور یہاں چھپے ٹیلنٹ کو اجاگر کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نعیم منگل کا تعلق بھی اسی علاقے سے ہے لہذا اس ٹرافی کو ضلع کرم کے امن کے نام کرلی ہے اور نعیم منگل امن کا سفیر بن کر پاراچنار آگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عنقریب ضلع کرم سے ٹیلنٹ کو ہنٹ کرکے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کرکٹ کھیلنے کا موقع دیا جائے گا، جو آگے جاکر ملک کا نام روشن کریں گے۔ تقریب میں مولانا سید تجمل حسین، جلال بنگش نے عاطف رانا کو خوش آمدید کہا اور انہیں روائتی کلاہ لنگی پہنائی جبکہ ڈپٹی کمشنر کرم اور ڈی پی او کرم نے نعیم منگل کو روایتی کلاہ لنگ پہنائی، تقریب میں روائتی پی ٹی شو کا مظاہرہ کیا گیا اور مقامی اتن بھی پیش کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں
یورپی یونین کی نمائندہ کایا کالاس—فائل فوٹویورپی یونین کی نمائندہ کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں۔
یورپی یونین کا وفد پاکستان میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار سمیت اعلیٰ حکومتی عہدیداران سے ملاقات کرے گا۔
کایا کالاس نے پاکستان پہنچنے کے بعد اسلام آباد سے ایک انسٹا اسٹوری شیئر کی ہے۔
انہوں نے اپنی انسٹا اسٹوری میں لکھا ہے کہ میں آج اسلام آباد میں ہوں۔
یورپی یونین کی نمائندہ نے مزید لکھا ہے کہ پاکستان ایک بڑی علاقائی طاقت ہے اور یورپی یونین کے لیے ایک اہم شراکت دار ہے۔
انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ دورہ ایک ایسے اہم موقع پر ہوا ہے جب دنیا اور اس خطے نے گہری تبدیلیوں کا تجربہ کیا ہے۔