عراق کے وفاقی وزیر برائے اعلی تعلیم نے اعلان کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران، قابض صیہونی رژیم کیساتھ مقابلے میں اسلامی ممالک کی صفِ اول ہے لہذا ایران کے ہاتھوں اس قابض رژیم کی شکست کا مطلب "پورے علاقے کی فتح" ہے! اسلام ٹائمز۔ عراق کے وفاقی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم اور عراقی مزاحمتی تحریک الصادقون کے سربراہ سیاسی بیورو نعیم العبودی نے اعلان کیا ہے کہ موجودہ جنگ خطے کا نقشہ بدل کر رکھ دے گی۔ عراقی چینل العہد کے پروگرام "نصف دائرہ" میں گفتگو کرتے ہوئے نعیم العبودی کا کہنا تھا کہ قابض صیہونی رژیم ایران کے خلاف اپنی فوجی جنگ ابھی سے ہار چکی ہے۔ یہ بیان کرتے ہوئے کہ آج کی دنیا میں صرف طاقت کی منطق ہی غالب ہے اور بین الاقوامی قوانین کا کوئی احترام نہیں کیا جاتا، انہوں نے تاکید کی کہ ایران، غاصب صیہونی رژیم کے مقابلے میں اسلامی ممالک کی صفِ اول ہے لہذا ایران کے ہاتھوں اس قابض رژیم کی شکست "خطے بھر کی فتح" ہے۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ غاصب صیہونی رژیم پر فتح انتہائی قریب ہے، عراق کے وزیر برائے اعلی تعلیم نے کہا کہ عراق کے مفادات کا تقاضا ہے کہ ایران مضبوط رہے۔ عراقی مزاحمتی تحریک عصائب اہل الحق کے ساتھ وابستہ الصادقون کے سربراہ سیاسی بیورو نے تاکید کی کہ مزاحمتی گروہوں نے کبھی بھی اپنی حکومت کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھائے، اور زور دیتے ہوئے کہا کہ صادقون اور حشد الشعبی، ایک ہی وجود کے دو پیکر ہیں۔ انہوں نے تاکید کی کہ شیخ الخزعلی کردوں پر ظلم و ستم کو کبھی قبول نہیں کرتے اور کہا کہ کُردوں کے مفادات کا تقاضا ہے کہ کردستان، عراق کے ایک حصے کے طور پر باقی رہے۔ اپنی گفتگو کے آخر میں انہوں نے شام کی عدم تقسیم پر بھی زور دیا اور واضح کیا کہ شام میں اہل تشیع کی اکثریت کو بے گھر کر دیا گیا ہے!

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: صیہونی رژیم عراق کے

پڑھیں:

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے  ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔

کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے