محرم الحرام‘ مذہبی رواداری کو برقرار رکھنے کیلیے تمام علما کا متفقہ اعلامیہ جاری
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(آن لائن) ملک بھر میں ماہ محرم کے دوران مذہبی رواداری کو برقرار رکھنے کے لیے تمام مسالک کے علما اور مشائخ نے متفقہ اعلامیہ جاری کردیا۔ وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے محرم الحرام کے دوران بین المسالک ہم آہنگی اور امن و امان کے حوالے سے وزارتِ مذہبی امور میں ایک اہم اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں راولپنڈی اور اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ممتاز علما کرام و مشائخ عظام نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مذہبی امور نے کہا کہ گزشتہ سالوں کی طرح محرم الحرام کے دوران ملک میں امن و امان قائم رکھنے
میں علما کا کردار بہت اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ بین المسالک ہم آہنگی کی فضا برقرار رکھنے کے لیے علما کرام ، خطبا اور مصنفین اپنی تقریروں اور تحریروں میں توازن و اعتدال پیدا کریں اور ایسے اشتعال انگیز بیانات اور تحریروں سے اجتناب کریں گے جن سے دوسروں کی دل آزاری ہو سکتی ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان
پشاور (بیورو رپورٹ) خیبر پی کے کے علماء کرام نے سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کا اعلان کر دیا۔ اس ضمن میں محکمہ صحت خیبر پی کے نے یونیسیف کے تعاون سے متحدہ علماء بورڈ خیبر پی کے اور تنظیمات المدارس خیبر پی کے کے اشتراک سے سرویکل کینسر سے بچاؤ کے موضوع پر ایک اہم مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز علماء کرام نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد علماء کرام اور محکمہ صحت کے درمیان اعتماد، تعاون اور مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا تھا تاکہ خواتین اور بچیوں کو سروائیکل کینسر سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اجلاس کے دوران علماء کرام نے اس اقدام کو سراہا اور کئی اہم سفارشات پیش کیں۔ انہوں نے ویکسین کے اجزاء، حفاظت اور تیاری کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنے، سوشل میڈیا، ٹی وی، ریڈیو، جمعہ کے خطبات، بل بورڈز، ہسپتالوں اور دیگر ذرائع سے بھرپور آگاہی مہم چلانے، علماء اور ماہر ڈاکٹروں کی مشاورت سے مشترکہ فتویٰ جاری کرنے، کینسر کے ماہرین اور علماء کے درمیان مسلسل رابطہ رکھنے، تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلنے، بچیوں کی رازداری اور پردے کا مکمل خیال رکھنے اور محکمہ صحت کی قیادت میں آگاہی مہم کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔