امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کا تیل کی قیمتیں کم رکھنے کا مشورہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تیل کی قیمتیں کم رکھنے کا مشورہ دیتے ہوئے محکمہ توانائی کو زیر زمین ذخائر سے خام تیل نکالنے کے لیے فوری طور پر کھدائی شروع کرنے کا حکم دیا ہے ۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک بیان میں صدرٹرمپ نے ہدایت کی کہ ابھی فوراً کھدائی شروع کرو ،سب لوگ، تیل کی قیمتیں کم رکھو۔
امریکی صدرنے کانگریس مین تھامس میسی کو عہدے سے ہٹانے کاحکم بھی دیا، انہوں نے کہا کہ تھامس کو فوری عہدے سے فارغ کرو،تھامس نے ایران سے متعلق نرمی برتی۔
ایران میں امریکا مردہ آباد کے نعرے لگائے جاتے ہیں،تھامس میسی نےہمیشہ ہر بل کے خلاف ووٹ دیا،میں دیکھ رہا ہوں، تم دشمن کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہو، ایسا مت کرو۔
دوسری جانب مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کی وجہ سے عالمی منڈی میں کاروبار کے پہلے دن خام تیل کی قیمتوں میں مزید 3 فیصد سے زائد اضافہ ہو گیا ۔
عالمی منڈی میں امریکی خام تیل کے 75 ڈالر 52 سینٹ فی بیرل میں سودے ہوئے جبکہ برینٹ کروڈ 78 ڈالر 78 سینٹ فی بیرل پر پہنچ گیا۔
عالمی گیس قیمت 3 ڈالر 90 سینٹس فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچ گئی، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت بڑھنے سے پاکستانی معیشت بھی متاثر ہوگی۔آبنائے ہرمز بند کرنے کی صورت میں تیل قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: تیل کی
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔