گھریلو اور صنعتی صارفین کو ریلیف دینے کیلئے ٹیرف میں توازن لانے کی سکیم تیار
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
( ویب نیوز )خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے قیام کے دوسرے سال میں توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے باعث خودانحصاری کا سفر تیز تر ہوگیا ہے۔
بجلی چوری کے خلاف ٹاسک فورس نے 86 ارب روپے کی ریکوری کی ۔ گردشی قرضے پر قابو پانے کیلئے جامع حکمت عملی پر عمل درآمد شروع ہوگیا جبکہ گھریلو اور صنعتی صارفین کو ریلیف دینے کیلئے ٹیرف میں توازن لانے کی سکیم بھی تیار کرلی گئی۔
وزیر اعظم کا قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس طلب
سکھر میں 150 میگاواٹ پاور پراجیکٹ کی تعمیر سے جنوبی سندھ میں توانائی کی ضروریات کی تکمیل میں بہتری آئی۔ گلگت بلتستان میں ایک میگاواٹ کا سولر منصوبہ مکمل ہوگئے، جس سے ماحول دوست بجلی کی فراہمی شروع ہو گئی ۔
سعودی عرب کی 10 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی امداد سے آزاد کشمیر میں 70 میگاواٹ کے دو ہائیڈرو منصوبوں پر عمل شروع ہوگیا ہے ۔ ایس آئی ایف سی کے تعاون سے چین کی کمپنی 'سِائنوٹیک سولر' کا تین گیگاواٹ کا سولر پلانٹ کراچی میں قائم کیا گیا جس سے بیٹری اور ای وی ٹرک پروڈکشن شروع ہو چکی ۔
روس اور چین کی ایران پر امریکی حملے کی مذمت
این پی جی سی ایل اور چینی کمپنی کے درمیان 300 میگاواٹ سولر پلانٹ کے لیے 20 کروڑ ڈالر کا معاہدہ طے پا گیا ۔ شنگھائی الیکٹرک کی تھر کول بلاک ون میں سرمایہ کاری سے توانائی میں خود انحصاری کی راہ ہموار ہوگئی ۔ براؤن فیلڈ ریفائنری پالیسی کے تحت تین آئل ریفائنریوں کی اپگریڈیشن کیلئے 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔
ماڑی پٹرولیم کی 'غازیج فیلڈ' کے علاوہ اٹک ، وزیرستان اور دادو میں گیس کی نئی دریافتیں توانائی میں خود کفالت کی طرف پیش رفت ہے ۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی مجوزہ نجکاری سے سروس ڈیلیوری میں بہتری کی امید ہے۔ ایس آئی ایف سی کی قیادت میں توانائی ، پیٹرولیم اور قابلِ تجدید ذرائع میں اصلاحات، پائیدار ترقی کی بنیاد ہے۔
شاہدرہ پولیس کی ہنی ٹریپ گروہ کے خلاف کارروائی ، پولیس کانسٹیبل سمیت 2 ملزم گرفتار
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔