39 وزارتوں کو ضم کیا جا رہا ہے، 24 سرکاری ادارے بیچنے کا فیصلہ کیا ہے، وزیر خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
تقریب سے خطاب میں محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ دنیا میں معاشی نظام بہتری کی جانب گامزن ہے، بہت سے ممالک معاشی نظام میں اصلاحات لا رہے ہیں، دنیا بھر میں ٹیرف رجیم کو زیادہ فوکس کیا جا رہا ہے، گورنمنٹ کا کام ایکو سسٹم فراہم کرنا ہے، اے آئی پر مبنی ترقی کیلئے ایکو سسٹم تشکیل دینا ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ روایتی پارٹنرز ہمیں فنڈنگ فراہم کرتے رہے، اب سفارتی تعلقات کو سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے استعمال کریں گے، وفاقی حکومت میں رائٹ سائزنگ کرکے 39 وزارتوں کو ضم کیا جا رہا ہے، 24 سرکاری ادارے بیچنے کا فیصلہ کیا ہے، پی آئی اے کی نجکاری سال ختم ہونے سے پہلے مکمل ہو جائے گی۔ مقامی ہوٹل میں دی فیوچر سمٹ کے نویں ایڈیشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ معیشت میں نجی شعبے کا کردار بہت اہم ہے، ملک کو پرائیویٹ سیکٹر نے لیڈ کرنا ہے، پیداوار پر مبنی معاشی ترقی ہی پائیدار راستہ ہے، پاکستان کی معیشت درست سمت میں گامزن ہے، پاکستان کے میکرو اکنامک استحکام کو عالمی سطح پر بھی سراہا گیا ہے، عالمی ریٹنگ ایجنسی نے پاکستان کی معاشی بہتری کا اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں معاشی نظام بہتری کی جانب گامزن ہے، بہت سے ممالک معاشی نظام میں اصلاحات لا رہے ہیں، دنیا بھر میں ٹیرف رجیم کو زیادہ فوکس کیا جا رہا ہے، گورنمنٹ کا کام ایکو سسٹم فراہم کرنا ہے، اے آئی پر مبنی ترقی کیلئے ایکو سسٹم تشکیل دینا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان تھرڈ لارجسٹ فری لانسرز کی فہرست میں شامل ہے، پاکستان کو برآمدات کا مرکز بنانا ہے، پائیدار معاشی ترقی کیلئے ڈھانچہ جاتی اصلاحات ناگزیر ہے، ڈیجیٹائزیشن سے معیشت میں شفافیت آئے گی، بلیو اکانومی میں بھرپور صلاحیت موجود ہے، ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، 9 لاکھ نئے فائلرز شامل ہوئے ہیں، مصر نے ایف بی آر اصلاحات سے سیکھنے کی درخواست کی ہے۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ کارپوریٹ منافع 9 فیصد بڑھا ہے، گوگل پاکستان کو ایکسپورٹ ہب بنانے کا منصوبہ بنانا چاہتا ہے، آئی ٹی اور میری ٹائم سیکٹر پر فوکس ہوگا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ بلیو اکانومی کے فروغ کے وسیع مواقع موجود ہیں، غیر ملکی کمپنیوں نے پاکستان کو کاروبار اور سرمایہ کاری کیلئے پرکشش مقام قرار دیا، میکرو اکنامک استحکام کوئی حتمی مقصد نہیں بلکہ معیشت پر اعتماد سرمایہ کاری کا ذریعہ ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ مستحکم معاشی ترقی کیلئے آبادی میں اضافہ اور موسمیاتی تبدیلیوں جیسے مسائل پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے فنڈز دستیاب ہیں، ہمیں ان کا دانشمندانہ استعمال کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے دوسرے جائزے پر اسٹاف لیول ایگریمنٹ ہوگیا، قسط کی ادائیگی کی منظوری کے لیے آئی ایم ایف کے بورڈ کا اجلاس دسمبر کے آغاز میں ہوگا، ہماری سمت درست ہے، معیشت پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بلند ہے۔ انہوں نے کہا کہ روایتی پارٹنرز ہمیں فنڈنگ فراہم کرتے رہے، اب سفارتی تعلقات کو سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے استعمال کریں گے، سرمایہ کاری کی قیادت نجی شعبہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی نمو کو آگے بڑھانے کے لیے ضروری انفرا اسٹرکچر مہیا کریں گے، گوگل نے پاکستان میں دفتر قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، گوگل پاکستان کو ایکسپورٹ حب کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: محمد اورنگزیب نے کہا انہوں نے کہا کہ کیا جا رہا ہے سرمایہ کاری پاکستان کو ترقی کیلئے ایکو سسٹم کے لیے کیا ہے
پڑھیں:
انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت امریکی محکمۂ خزانہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ غیر قانونی امیگریشن کی معاونت کے لیے استعمال ہونے
والے بینک اکاؤنٹس بند کرے۔
ٹرمپ نے 2 جون کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ یہ حکم ان بینکوں، کریڈٹ کارڈ کمپنیوں اور دیگر مالیاتی اداروں کو ہدف بناتا ہے جن کے ذریعے مجرم
عناصر انسانی اسمگلنگ، منشیات کی تجارت، غیر قانونی امیگریشن اور منظم جرائم پیشہ گروہوں سے وابستہ رقوم منتقل کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ غیر قانونی تارکینِ وطن اور غیر ملکی دھوکے باز ہر سال امریکی ٹیکس دہندگان سے اربوں ڈالر لوٹ لیتے ہیں۔
ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق ایسے بینک اکاؤنٹس جو غیر قانونی امیگریشن کی معاونت کے لیے استعمال ہو رہے ہوں یا جن میں غیر دستاویزی تارکینِ وطن کو دی جانے والی سرکاری امداد رکھی جا
رہی ہو، انہیں بند، ضبط یا بحقِ سرکار تحویل میں لیا جا سکتا ہے۔
President Trump announced that he has signed a new Executive Order aimed at cracking down on financial fraud and illegal immigration.
The order directs the Treasury Department to restrict banks, credit cards, and financial institutions from being used to support human smuggling,… pic.twitter.com/01rOIAWCxI
— Open Source Intel (@Osint613) June 2, 2026
صدر ٹرمپ کے مطابق وہ بینک اکاؤنٹس جو غیر قانونی امیگریشن کو سہولت فراہم کرنے یا غیر قانونی تارکینِ وطن کو ملنے والی فلاحی امداد محفوظ رکھنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، بند کر دیے جائیں گے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے مجرمانہ نیٹ ورکس کے ذریعے امریکا سے باہر جانے والے اربوں ڈالر کے بہاؤ کو روکا جا سکے گا۔
محکمۂ خزانہ کی کارروائیاںوائٹ ہاؤس اور محکمۂ خزانہ کے مطابق جرائم پیشہ تنظیمیں امریکی مالیاتی نظام کو غیر قانونی رقوم منتقل کرنے اور چھپانے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ نئے حکم نامے کا مقصد بینکنگ سطح پر
ان نیٹ ورکس کی رسائی ختم کرنا ہے۔
اسی تناظر میں مارچ 2026 میں محکمۂ خزانہ نے میکسیکو کے سینالوا کارٹیل سے وابستہ ایک منی لانڈرنگ نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کی تھیں۔
مزید پڑھیں: صدرٹرمپ کا ووٹرشناختی کارڈ لازمی قرار دینے کا فیصلہ، ایگزیکٹیو آرڈر جلد متوقع
حکام کا الزام تھا کہ منشیات فروش فینٹانائل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو پہلے کرپٹو کرنسی میں تبدیل کرتے اور پھر یہ رقوم کارٹیل کے آپریٹرز تک پہنچائی جاتیں۔
امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے مارچ 2026 میں کہا تھا کہ محکمۂ خزانہ دہشتگرد کارٹیلز اور ان کے فینٹانائل اسمگلنگ نیٹ ورکس کو نشانہ بناتا رہے گا۔
مسئلے کا حجمامریکی حکام کے مطابق مسئلہ کافی وسیع ہے۔ محکمۂ خزانہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نشاندہی کی ہے کہ چینی منی لانڈرنگ نیٹ ورکس مبینہ طور پر 312 ارب ڈالر سے زائد رقوم
امریکی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے منتقل کر چکے ہیں۔
حکام نے مالیاتی نظام کو مزدوروں کی اسمگلنگ سے بھی جوڑا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ٹرانس جینڈر بچوں کی جنس تبدیلی کے علاج پر پابندی لگا دی
اپریل 2025 میں امریکی ادارے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ یعنی آئی سی ای نے ریاست اوہائیو میں ایک مبینہ 126 ملین ڈالر مالیت کے غیر قانونی افرادی قوت فراہم کرنے اور منی لانڈرنگ
آپریشن سے منسلک اثاثے ضبط کیے تھے۔
آئی سی ای کے مطابق اس نیٹ ورک نے تقریباً 40 فرضی کمپنیوں کے ذریعے غیر دستاویزی کارکنوں کو ملازمت اور رہائش فراہم کی، جن میں سے بہت سے افراد میکسیکو کے راستے امریکا
اسمگل کیے گئے تھے۔ حکام کے مطابق اس دوران لاکھوں ڈالر بینک اکاؤنٹس، جائیدادوں اور لگژری اشیا کے ذریعے منتقل کیے گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسمگلنگ نیٹ ورکس امیگریشن امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ ایگزیکٹو آرڈر دہشتگرد ریاست اوہائیو صدر ٹرمپ فینٹانائل کریڈٹ کارڈ محکمہ خزانہ منی لانڈرنگ وائٹ ہاؤس