وزیر اعظم شہباز شریف ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کیلئے واشنگٹن ڈی سی پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن ڈی سی:وزیراعظم شہباز شریف وفد کے ہمراہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے واشنگٹن ڈی سی پہنچ گئے۔
میڈیاذرائع کے مطابق اینڈریو ایئر بیس پہنچنے پر وزیراعظم شہباز شریف کا ریڈ کارپیٹ استقبال کیا گیا، امریکی ایئر فورس کے اعلیٰ عہدیدار نے وزیراعظم کا ایئربیس پر استقبال کیا۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ ہیں۔ وزیراعظم شہبازشریف کا موٹر کیڈ امریکی سیکیورٹی کے حصار میں ایئر بیس سے روانہ ہو گیا۔
میڈیاذرائع کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف کا سفارت کاری سے بھرپور امریکا کا دورہ وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے ذریعے اپنے عروج پر پہنچنے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شہباز شریف
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔