سندھ حکومت کی جانب سے ایچ پی وی ویکسین مہم کا آغازکررہی ہے
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) حکومت سندھ کی جانب سے 9 سے 14 سال کی عمر کی بچیوں کو سروائیکل کینسر سے محفوظ رکھنے کے لیے 13 ستمبر 2025 سے ”ہیومن پیپیلوما وائرس” (HPV) کی ویکسین مہم کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں حیدرآباد کے ضلعی سطح پر تیاریوں کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر-II حیدرآباد صبا کلوڑ کی زیر صدارت آج شہباز ہال شہباز بلڈنگ حیدرآباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر پیر غلام حسین، ڈویژنل پولیو ٹاسک فورس انچارج ڈاکٹر جمشید خانزادہ، ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سینٹر انچارج ڈاکٹر وقار ڈہر، WHO کی امیونائزیشن آفیسر ڈاکٹر نجمہ طارق، HPV فوکل پرسن ڈاکٹر عبداللہ نظامانی سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اے ڈی سی ٹو صبا کلوڑ نے کہا کہ محکمہ تعلیم ضلع بھر کے پرائمری، سیکنڈری اور ہاء اسکولوں میں زیر تعلیم طالبات کی تعداد فراہم کرے جس کے بعد ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ٹیمیں تشکیل دے گا جو ویکسینیشن مہم کو عملی جامع پہنائیں گی۔ انہوں نے ہدایت دی کہ محکمہ تعلیم ویکسینیشن مہم سے قبل آگاہی مہم شروع کرے تاکہ والدین اور طالبات میں شعور بیدار ہو اور ویکسینیشن کی مکمل کوریج کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ اسکولوں میں طالبات کونشاندہی کرنے کے لیے بھی جامع پلان تیار کیا جائے گا۔ PPHI کو بھی ہدایت دی گئی کہ وہ کمیونٹی میں آگاہی پیدا کرے اور والدین کو اس ویکسین کی افادیت اور اہمیت سے آگاہ کرے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ اس مہم کا مقصد بچیوں کو سروائیکل کینسر (رحم کے دہانے کے کینسر) سے محفوظ بنانا ہے۔ محکمہ صحت سندھ، محکمہ تعلیم اور دیگر متعلقہ ادارے اس مہم کو کامیاب بنانے کے لیے مشترکہ طور پر کام کریں گے۔اس ضمن میں محکمہ صحت سندھ نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ محکمہ کی ٹیموں سے بھرپور تعاون کریں اور اپنی بچیوں کو اس مہلک بیماری سے بچانے کے لیے ویکسین ضرور لگوائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت امریکی محکمۂ خزانہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ غیر قانونی امیگریشن کی معاونت کے لیے استعمال ہونے
والے بینک اکاؤنٹس بند کرے۔
ٹرمپ نے 2 جون کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ یہ حکم ان بینکوں، کریڈٹ کارڈ کمپنیوں اور دیگر مالیاتی اداروں کو ہدف بناتا ہے جن کے ذریعے مجرم
عناصر انسانی اسمگلنگ، منشیات کی تجارت، غیر قانونی امیگریشن اور منظم جرائم پیشہ گروہوں سے وابستہ رقوم منتقل کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ غیر قانونی تارکینِ وطن اور غیر ملکی دھوکے باز ہر سال امریکی ٹیکس دہندگان سے اربوں ڈالر لوٹ لیتے ہیں۔
ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق ایسے بینک اکاؤنٹس جو غیر قانونی امیگریشن کی معاونت کے لیے استعمال ہو رہے ہوں یا جن میں غیر دستاویزی تارکینِ وطن کو دی جانے والی سرکاری امداد رکھی جا
رہی ہو، انہیں بند، ضبط یا بحقِ سرکار تحویل میں لیا جا سکتا ہے۔
President Trump announced that he has signed a new Executive Order aimed at cracking down on financial fraud and illegal immigration.
The order directs the Treasury Department to restrict banks, credit cards, and financial institutions from being used to support human smuggling,… pic.twitter.com/01rOIAWCxI
— Open Source Intel (@Osint613) June 2, 2026
صدر ٹرمپ کے مطابق وہ بینک اکاؤنٹس جو غیر قانونی امیگریشن کو سہولت فراہم کرنے یا غیر قانونی تارکینِ وطن کو ملنے والی فلاحی امداد محفوظ رکھنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، بند کر دیے جائیں گے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے مجرمانہ نیٹ ورکس کے ذریعے امریکا سے باہر جانے والے اربوں ڈالر کے بہاؤ کو روکا جا سکے گا۔
محکمۂ خزانہ کی کارروائیاںوائٹ ہاؤس اور محکمۂ خزانہ کے مطابق جرائم پیشہ تنظیمیں امریکی مالیاتی نظام کو غیر قانونی رقوم منتقل کرنے اور چھپانے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ نئے حکم نامے کا مقصد بینکنگ سطح پر
ان نیٹ ورکس کی رسائی ختم کرنا ہے۔
اسی تناظر میں مارچ 2026 میں محکمۂ خزانہ نے میکسیکو کے سینالوا کارٹیل سے وابستہ ایک منی لانڈرنگ نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کی تھیں۔
مزید پڑھیں: صدرٹرمپ کا ووٹرشناختی کارڈ لازمی قرار دینے کا فیصلہ، ایگزیکٹیو آرڈر جلد متوقع
حکام کا الزام تھا کہ منشیات فروش فینٹانائل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو پہلے کرپٹو کرنسی میں تبدیل کرتے اور پھر یہ رقوم کارٹیل کے آپریٹرز تک پہنچائی جاتیں۔
امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے مارچ 2026 میں کہا تھا کہ محکمۂ خزانہ دہشتگرد کارٹیلز اور ان کے فینٹانائل اسمگلنگ نیٹ ورکس کو نشانہ بناتا رہے گا۔
مسئلے کا حجمامریکی حکام کے مطابق مسئلہ کافی وسیع ہے۔ محکمۂ خزانہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نشاندہی کی ہے کہ چینی منی لانڈرنگ نیٹ ورکس مبینہ طور پر 312 ارب ڈالر سے زائد رقوم
امریکی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے منتقل کر چکے ہیں۔
حکام نے مالیاتی نظام کو مزدوروں کی اسمگلنگ سے بھی جوڑا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ٹرانس جینڈر بچوں کی جنس تبدیلی کے علاج پر پابندی لگا دی
اپریل 2025 میں امریکی ادارے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ یعنی آئی سی ای نے ریاست اوہائیو میں ایک مبینہ 126 ملین ڈالر مالیت کے غیر قانونی افرادی قوت فراہم کرنے اور منی لانڈرنگ
آپریشن سے منسلک اثاثے ضبط کیے تھے۔
آئی سی ای کے مطابق اس نیٹ ورک نے تقریباً 40 فرضی کمپنیوں کے ذریعے غیر دستاویزی کارکنوں کو ملازمت اور رہائش فراہم کی، جن میں سے بہت سے افراد میکسیکو کے راستے امریکا
اسمگل کیے گئے تھے۔ حکام کے مطابق اس دوران لاکھوں ڈالر بینک اکاؤنٹس، جائیدادوں اور لگژری اشیا کے ذریعے منتقل کیے گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسمگلنگ نیٹ ورکس امیگریشن امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ ایگزیکٹو آرڈر دہشتگرد ریاست اوہائیو صدر ٹرمپ فینٹانائل کریڈٹ کارڈ محکمہ خزانہ منی لانڈرنگ وائٹ ہاؤس