پاکستان کے فاسٹ بولر محمد عباس اور بھارت کے وکٹ کیپر بلے باز ایشان کشن کے درمیان نارتھمپٹن شائر اور یارکشائر کے درمیان کھیلے گئے کاؤنٹی چیمپئن شپ میچ کے دوران ایک خوشگوار لمحہ دیکھنے کو ملا، جسے دونوں ممالک کے شائقین نے بے حد سراہا۔

یہ منظر میچ کے دوسرے دن اس وقت دیکھنے کو ملا جب محمد عباس نے یارکشائر کے اوپنر ایڈم لائتھ کو بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ کیا، بائیں ہاتھ کے بلے باز نے عباس کی گیند پر ایج دیا، جسے ایشان کشن نے وکٹوں کے پیچھے خوبصورتی سے کیچ کیا۔

Pakistani bowler Mohammad Abbas and Indian wicket-keeper batter Ishan Kishan were seen celebrating together, hugging and cheering during the English County Championship.

#TheCurrent #EnglishCounty #sports pic.twitter.com/dVkFoh2urM

— The Current (@TheCurrentPK) June 24, 2025

اس کے فوراً بعد دونوں کھلاڑیوں نے ہاتھ ملا کر اور گلے لگ کر اپنی کامیابی کا مختصر مگر جذباتی انداز میں جشن منایا، یہ لمحہ کیمرے کی آنکھ میں محفوظ ہو گیا اور سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گیا۔

ناٹنگھم شائر کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے بھی یہ ویڈیو شیئر کی، جسے سرحد کے دونوں جانب سے کرکٹ شائقین کی جانب سے بے پناہ پذیرائی ملی۔

یہ بھی پڑھیں:

ایک مداح خواجہ نعیم اکبر نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ یہی کاؤنٹی کرکٹ کی اصل خوبصورتی ہے۔ ’میں اس کھیل کو ایسے لمحوں کی وجہ سے پسند کرتا ہوں۔‘

ایک اور صارف نے لکھا کہ عباس اور کشن کو ایک ساتھ کھیلتے دیکھ کر ان کی انفرادی عزت میں اضافہ ہوا، جبکہ دیگر نے اس لمحے کو ’خاص اور خوبصورت‘ قرار دیا۔

بیٹنگ میں بھی ایشان کشن نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور ناٹنگھم شائر کی پہلی اننگز میں 98 گیندوں پر 87 رنز کی شاندار اننگز کھیلی، جس میں ایک چھکا اور 12 چوکے شامل تھے۔

مزید پڑھیں:

دوسری جانب محمد عباس نے بھی کفایتی بولنگ کرتے ہوئے 10 اوورز میں صرف 19 رنز دے کر ایک وکٹ حاصل کی، جس میں چار میڈن اوورز شامل تھے۔

یاد رہے کہ کاؤنٹی چیمپئن شپ کے آئندہ میچوں میں مزید پاک-بھارت کھلاڑی ایک ساتھ میدان میں نظر آئیں گے۔ بھارتی بلے باز رتوراج گائیکواڈ جولائی میں یارکشائر سے منسلک ہو رہے ہیں، جبکہ پاکستانی بلے باز عبداللہ شفیق بھی اسی ٹیم سے کھیلنے والے ہیں، جو ویزا مسائل حل ہونے کے بعد ایکشن میں دکھائی دیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایشان کشن کاؤنٹی چیمپئن شپ کاؤنٹی کرکٹ محمد عباس ناٹنگھم شائر وکٹ کیپر یارکشائر

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایشان کشن کاؤنٹی چیمپئن شپ کاؤنٹی کرکٹ ناٹنگھم شائر وکٹ کیپر یارکشائر ایشان کشن بلے باز

پڑھیں:

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج

طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔

اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔

اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • جوز بٹلر نے یونیورس باس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج