ایران نے 550 بیلسٹک میزائل،ایک ہزار ڈرون داغے، 28 شہری ہلاک، 3 ہزار زخمی ہوئے، اسرائیلی حکام
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
تل ابیب: اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران سے جنگ کے دوران 28 شہری ہلاک اور 3 ہزار سے زائد زخمی ہوئے، ایران نے 550 بیلسٹک میزائل اور ایک ہزار کے قریب ڈرونز داغے۔
ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ ایران سے جنگ کے دوران 28 شہری ہلاک اور 3 ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
میگن ڈیوڈ آدوم (ایم ڈی اے ) ایمبولینس سروس کے مطابق، جنگ بندی ہونے تک 28 شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی، جن میں سے4 شہری آج صبح ہلاک ہوئے۔
ایمبولینس سروس کے مطابق ان کے علاوہ 900 سے زائد شہریوں کو زخمی اور 401 افراد کو شدید ذہنی دباؤ یا خوف و ہراس میں مبتلا ہونے پر طبی امداد فراہم کی گئی۔
دوسری جانب، وزارت صحت نے کچھ مختلف اعداد و شمار جاری کیے ہیں، ان کے مطابق، 12 روزہ جنگ کے دوران 3 ہزار 238 افراد کو ہسپتالوں میں داخل کیا گیا، کئی زخمی افراد کو دیگر ریسکیو اداروں نے ہسپتال پہنچایا یا وہ خود اپنے طور پر وہاں پہنچے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق ایران نے جنگ کے دوران تقریباً 550 بیلسٹک میزائل اور 1000 کے قریب ڈرونز اسرائیل پر داغے، جن میں سے زیادہ تر کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا۔
تاہم، رپورٹ کے مطابق کم از کم 31 بیلسٹک میزائل آبادی والے علاقوں میں گرے، جبکہ صرف ایک ڈرون نے ایک گھر کو نشانہ بنایا۔
مزید برآں، حکام کا کہنا ہے کہ 9 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہوچکے ہیں جن کے گھر کلی یا جزوی طور پر تباہ ہوئے ۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔