کراچی: کمسن صارم کے قتل کا معمہ تاحال حل نہ ہو سکا،کئی ماہ گزرنے کے بعد دوبارہ تفتیش کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
نارتھ کراچی میں پانچ ماہ قبل ایک رہائشی اپارٹمنٹ کی پانی کی ٹینکی سے ملنے والی کمسن بچے صارم کی لاش کے معاملے میں اب تک کوئی حتمی پیش رفت نہ ہو سکی، کئی ماہ گزر جانے کے باوجود مقتول کے ورثاء اب بھی انصاف کے منتظر ہیں۔
ذرائع کے مطابق انسداد اغواء برائے قتل (اے وی سی سی) پولیس نے واقعے کی تفتیش ایک بار پھر سے شروع کر دی ہے۔ تازہ پیش رفت کے طور پر پولیس نے مزید چار مشتبہ افراد کے ڈی این اے نمونے حاصل کیے ہیں۔ تفتیشی ٹیم ڈی این اے رپورٹس کے موصول ہونے کا انتظار کر رہی ہے تاکہ قاتل یا اس سے جُڑے شواہد کو بے نقاب کیا جا سکے۔
یہ واقعہ 18 جنوری کو اس وقت منظر عام پر آیا جب نارتھ کراچی میں واقع ایک رہائشی عمارت کی پانی کی ٹینکی سے ننھے صارم کی لاش برآمد ہوئی۔ ابتدائی طور پر پولیس کو شبہ تھا کہ یہ کوئی حادثہ ہو سکتا ہے، تاہم بعد ازاں اس میں قتل کا عنصر سامنے آیا جس پر تفتیش کا دائرہ وسیع کیا گیا۔
متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ وہ مسلسل انصاف کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں، لیکن ابھی تک کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسی نتیجے پر پہنچا جا سکا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کیس کی پیچیدگی کے باعث تفتیش میں وقت لگ رہا ہے، تاہم وہ قاتل کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
گھوٹکی میں ڈہرکی سے سابق رکن صوبائی اسمبلی شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا گیا۔
ایس ایس پی گھوٹکی انور کھیتران کا کہنا ہے کہ جہانگیر شر کو نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان نے اغوا کیا تھا۔ واقعے کی اطلاع پر پولیس اور قبیلے لوگوں نے اغوا کاروں کا تعاقب کیا۔
انہوں نے بتایا کہ بچے کو پولیس نے مقابلے کے بعد بازیاب کروا لیا تاہم اس دوران ملزمان فرار ہوگئے۔
ایس ایس پی گھوٹی کا کہنا تھا کہ اغواکاروں کی نشاندہی ہوگئی ہے، ملزمان کا تعلق بھی شر قبیلے سے ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے تعاقب جاری ہے۔