برادری کی فلاح کیلیے کام کررہا ہوں، مخالفین پروپیگنڈہ بند کریں،ملک یونس
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)حیدرآباد سماجی آواز کے چیئرمین ندیم قادری انصاری نے اپنے وفد کے ہمراہ صدر ہائوس میں ملک انجمن یوتھ ویلفیئر کے مرکزی صدر ملک حاجی یونس جمال سے خوشگوار ماحول میں ملاقات کی، چیئرمین ندیم قادری نے ملک یونس کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کیا اور ان کے خلاف سوشل میڈیا پر ہونے والے پروپیگنڈے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور اپنی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلایا ۔ملک یونس جمال نے معزز مہمانوں کی آمد اور عزت افزائی پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میرا کام اپنی برادری کے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنا ہے مخالفین نے میرے خلاف بلا جواز چھوٹا پروپیگنڈا کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اوچھے ہتھکنڈوں سے مجھے یا میری تنظیم ملک انجمن یوتھ ویلفیئر کو نقصان پہنچا سکتے ہیں تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں ۔ملک یونس جمال نے کہا کہ ہم عوامی فلاحی کاموں کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور اپنی برادری کی ترقی و خوشحالی کے لئے متحد ہو کر کام کرتے رہیں گے ۔انہوں نے کہا کہ پوری ملک برادری جانتی ہے کہ کس نے کتنا کام کیا ہے اور کون اپنی برادری سے مخلص ہے میں ختم نبوت پر پختہ یقین رکھتا ہوں اور یہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ملک یونس
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔