اسمگلنگ کیخلاف ملک گیر کریک ڈاؤن؛ ایئرپورٹ ودیگر مقامات سے 17 کروڑ کی منشیات برآمد
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
اسمگلنگ کے خلاف ملک گیر کارروائیوں کے دوران ایئرپورٹ اور دیگر مقامات سے 17 کروڑ سے زائد مالیت کی منشیات برآمد کرلی گئی۔
ترجمان اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کے مطابق ملک بھر میں منشیات اسمگلنگ کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن جاری ہے، اس دوران مختلف شہروں میں 7 بڑی کارروائیاں کی گئیں۔
اے این ایف آپریشنز کے دوران 2 خواتین سمیت 8 ملزمان کو گرفتار کر کے مجموعی طور پر 17 کروڑ 92 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی 292.
لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر عمان جانے والے ایک مسافر کے سامان سے 970 گرام آئس برآمد ہوئی، جس پر ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔ اسی ایئرپورٹ پر ایک اور کارروائی میں قطر جانے والے مسافر کی واسکٹ کی تلاشی کے دوران 850 گرام آئس برآمد ہوئی اور اسے بھی حراست میں لے لیا گیا۔
سیالکوٹ کے پیرس روڈ پر واقع ایک کوریئر آفس میں کارروائی کے دوران ملزم سے 1.2 کلو گرام آئس برآمد ہوئی۔ ملزم کے انکشافات پر مزید کارروائی کرتے ہوئے محمد پورہ کے قریب ایک سرجیکل اسٹور سے 490 گرام آئس بھی قبضے میں لی گئی۔
اُدھر شکارپور سکھر روڈ پر ایک گاڑی سے 34.5 کلوگرام چرس برآمد ہوئی، جس میں 2خواتین سمیت 4افراد کو حراست میں لیا گیا۔ لاہور کے کلمہ چوک کے قریب ایک رکشہ کی تلاشی کے دوران 2.4 کلوگرام افیون برآمد کی گئی اور رکشہ سوار ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔
بلوچستان میں ہزارگنج کوئٹہ کے قریب اسمگلنگ کے لیے چھپائی گئی 81 کلوگرام افیون اور 111 کلوگرام ہیروئن برآمد کی گئی، جب کہ پنجگور کے علاقے بونستان کے قریب کارروائی کرتے ہوئے 60 کلوگرام چرس برآمد کی گئی۔
تمام گرفتار ملزمان کے خلاف انسداد منشیات ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے ہیں اور تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہےاے این ایف کے مطابق یہ کارروائیاں ملک کو منشیات سے پاک کرنے کی مہم کا حصہ ہیں اور یہ مہم آئندہ بھی اسی شدت سے جاری رہے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: برآمد کی گئی برآمد ہوئی کے دوران کے قریب لیا گیا
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔