غلافِ کعبہ کی تبدیلی، روح پرور تقریب آج منعقد ہوگی، تمام تیاریاں مکمل
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
مکہ مکرمہ:
نئے اسلامی سال کے آغاز پر مسجد الحرام میں غلافِ کعبہ کی تبدیلی کی روح پرور اور بابرکت تقریب آج نمازِ عصر کے بعد منعقد کی جائے گی، جس کے لیے تمام تر انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
غلافِ کعبہ کی تیاری اور تبدیلی کا عمل خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی نیابت میں گورنر مکہ مکرمہ کی سربراہی میں انجام دیا جائے گا، جس میں مسجد الحرام کے آئمہ کرام، کسوہ فیکٹری کے ماہرین، اعلیٰ حکام اور خصوصی ٹیم شریک ہوگی۔
غلافِ کعبہ کی تیاری کا عمل انتہائی مہارت اور عقیدت سے مکمل کیا جاتا ہے، جس میں دو سو سے زائد ماہر کاریگر اور فنکار شریک ہوتے ہیں۔ کسوہ فیکٹری میں 11 ماہ کی مسلسل محنت سے تیار کیا گیا یہ نیا غلاف مجموعی طور پر 1,415 کلوگرام وزنی ہے۔
غلاف میں 1,000 کلوگرام خالص سِلک (ریشم) استعمال کیا گیا ہے، جب کہ اس پر 120 کلوگرام سونے اور 100 کلوگرام چاندی سے تیار کردہ دھاگوں سے قرآنی آیات کی کشیدہ کاری کی گئی ہے۔ نیا غلاف چار بڑے ٹکڑوں کے ساتھ درمیانے اور چھوٹے 47 حصوں پر مشتمل ہے۔
تقریب کا آغاز نمازِ عصر کے بعد پرانے غلاف کے سنہری حصوں کو احتیاط سے ہٹانے سے ہوگا، جب کہ مکمل طور پر نیا غلاف نمازِ عشاء کے بعد کعبہ شریف پر چڑھایا جائے گا۔ یہ لمحے پوری امت مسلمہ کے لیے روحانی اہمیت رکھتے ہیں، جسے لاکھوں فرزندانِ توحید دنیا بھر سے عقیدت و احترام سے دیکھتے ہیں۔
یہ روایت ہر سال یکم محرم کو ادا کی جاتی ہے اور حرمین شریفین کی تاریخ میں اسے ایک عظیم الشان اور مقدس عمل کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کعبہ کی
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔