جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس؛ عمران خان کی پیشی کیلیے وزارتِ قانون کو دوبارہ خط
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
اسلام آ باد:
جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس میں عمران خان کی پیشی کے لیے عدالت نے وزارتِ قانون کو دوبارہ خط لکھ دیا۔
انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی اور دیگر کے خلاف جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیسز کی سماعت ہوئی، جس کی صدارت جج طاہر عباس سپرا نے کی۔
عدالت نے ایک بار پھر بانی پی ٹی آئی کو پیش کرنے یا ان کا جیل ٹرائل کرنے کے حوالے سے وزارتِ قانون کو خط لکھا ہے۔ اس سے قبل بھی بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے وزارتِ قانون کو خط لکھا جا چکا ہے، تاہم کسی قسم کا جواب موصول نہیں ہوا، جس پر اب دوبارہ خط ارسال کیا گیا ہے تاکہ آئندہ سماعت میں پیش رفت ممکن بنائی جا سکے۔
بانی پی ٹی آئی کی عدم دستیابی کے باعث آج کی سماعت کے دوران کوئی باقاعدہ کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی، تاہم پارٹی کے دیگر رہنما جن میں سینیٹر شبلی فراز، راجا بشارت اور علی نواز اعوان شامل ہیں، عدالت میں پیش ہوئے۔ ان کے ہمراہ وکلا سردار محمد مصروف خان ایڈووکیٹ، مرتضیٰ طوری اور دیگر بھی عدالت میں موجود تھے۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی اور دیگر کے خلاف تھانہ رمنا میں جوڈیشل کمپلیکس حملے کے سلسلے میں 2 مقدمات درج ہیں، جن پر قانونی کارروائی جاری ہے۔ عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت کے لیے وزارتِ قانون کے جواب کا انتظار کرتے ہوئے کارروائی ملتوی کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جوڈیشل کمپلیکس بانی پی ٹی آئی قانون کو
پڑھیں:
دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
امریکا میں آپریشن چیک میٹ کے تحت غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری سخت کریک ڈاؤن کی لپیٹ میں ہیں۔
دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کے لیے وبال جان بن چکے ہیں، جس کے نتیجے میں امریکا نے وفاقی امیگریشن نافذ کرنے کی مہم ’آپریشن چیک میٹ‘ کے تحت سخت کریک ڈاؤن کا آغاز کردیا ہے۔
امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے مطابق آپریشن چیک میٹ کے تحت گرفتار کیے گئے 36 ٹرک ڈرائیوروں میں سے کم از کم 30 بھارتی شہری تھے۔
خود بھارتی جریدے ٹائمز آف انڈیا کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ متعدد افراد کے پاس درست ڈرائیونگ لائسنس تک موجود نہیں تھے ۔ تمام افراد کیخلاف امریکی قانون کے تحت کارروائی کر کے امریکا سے نکالنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
یوما سیکٹر کے قائم مقام چیف پٹرول ایجنٹ ڈسٹن کاڈل نے کہا ہے کہ غیر قانونی طور پر موجود بھارتی ڈرائیورعوامی سلامتی کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتے ہیں ۔
سعودی عرب، کینیڈا اور امریکا سمیت بیشتر ممالک جعلی دستاویزات اورفراڈ سمیت متعدد وجوہات کی بنیاد پر بڑی تعداد میں بھارتی شہریوں کو ملک بدر کر چکے ہیں ۔ بھارتی حکام کے اعداد و شمار کے مطابق2021 سے 2025 کے دوران 52 مختلف ممالک سے 171,150 بھارتی شہریوں کو ملک بدر کیا گیا ہے۔
عالمی ماہرین کے مطابق مودی کے نام نہاد شائننگ انڈیا کے دعووں کے باوجود بھارتی شہریوں نےغیر قانونی طور پر ملک سے بھاگ کر بھارت کا پول کھول دیا ہے۔ مختلف ممالک میں ریاست مخالف سرگرمیوں اور سنگین جرائم میں ملوث بھارتی تارکین عوامی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔