فواد چودھری کی 9 مئی کے 35 مقدمات یکجا کرنے کی درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
سپریم کورٹ میں سابق وفاقی وزیر فواد چودھری کی جانب سے 9 مئی کے واقعات سے متعلق درج 35 مقدمات کو یکجا کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔
جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے سماعت کے بعد تمام متعلقہ فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں، کیس کی مزید سماعت یکم جولائی تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان اور فوج کے درمیان لڑائی نہیں تلخیاں ہیں، فواد چودھری
واضح رہے کہ 9 مئی 2023 کو پاکستان میں اُس وقت بڑے پیمانے پر پُرتشدد مظاہرے شروع ہوئے، جب سابق وزیر اعظم عمران خان کو نیب کی جانب سے القادر ٹرسٹ کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے گرفتار کیا گیا۔
ان مظاہروں کے دوران مختلف شہروں میں سرکاری اور فوجی تنصیبات پر حملے کیے گئے، جن میں کور کمانڈر ہاؤس لاہور، میانوالی ایئربیس اور جی ایچ کیو راولپنڈی کے باہر مظاہرے شامل تھے۔
مزید پڑھیں: الیکشن کمیشن منشیوں پر مشتمل ہے، فواد چودھری
ان واقعات کے بعد حکومت نے تحریک انصاف کے سینکڑوں کارکنان اور رہنماؤں کے خلاف انسداد دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمات درج کیے، فواد چودھری، جو اُس وقت پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر تھے، ان افراد میں شامل ہیں جن پر مختلف شہروں میں مجموعی طور پر 35 مقدمات میں ایف آئی آرز درج کی گئی تھیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
9 مئی جسٹس شاہد وحید جی ایچ کیو راولپنڈی دہشت گردی سابق وفاقی وزیر سپریم کورٹ فواد چوہدری کور کمانڈر ہاؤس میانوالی ایئربیس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جسٹس شاہد وحید جی ایچ کیو راولپنڈی سابق وفاقی وزیر سپریم کورٹ فواد چوہدری کور کمانڈر ہاؤس میانوالی ایئربیس فواد چودھری
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔