سابق بھارتی اداکارہ ثناخان کے گھرصف ماتم بچھ گئی
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
ممبئی(نیوز ڈیسک)سابقہ بھارتی اداکارہ ثنا خان کی والدہ طویل علالت کے بعد انتقال کر گئیں۔
ثنا خان نے 2005 میں ایک مختصر بجٹ کی ہندی فلم ‘یہی ہے ہائی سوسائٹی’ سے فلمی نگری میں قدم رکھا اور 50 سے زائد کمرشلز میں کام کیا,وہ ‘جرنی بومبے تو گووا’، ‘ہلہ بول’، ‘جے ہو’ اور ‘وجہ تم ہو’ جیسی فلموں میں بھی نظر آئیں تاہم اصل شہرت انہیں بگ باس، جھلک دکھلاجا اور خطروں کے کھلاڑی جیسے ریئلٹی شوز میں شرکت کر کے ملی تاہم سال 2020 سے ان کی انسٹاگرام پوسٹس میں مداحوں نے بڑی تبدیلی کا مشاہدہ کرنا شروع کردیا جب وہ زیادہ تر پوسٹس میں حجاب لیتی اور مذہبی پوسٹس کرتی نظر آئیں جس کے بعد اسی سال ثنا خان نے شوبز کی زندگی کو مکمل ترک کرتے ہوئے دین کی راہ اپنائی اور 8 اکتوبر 2020 کو اپنے اسے فیصلے کا اعلان انسٹاگرام پر کیا تھا,بعدازاں 21 نومبر 2020 کو انہوں نے مذہبی شخصیت مفتی انس سید سے بھارتی شہر سورت میں شادی کرلی تھی۔
جوڑے کے 5 جولائی 2023 کو پہلے بچے کی پیدائش ہوئی تھی جس کا نام انہوں نے معروف مذہبی اسکالر طارق جمیل کے نام پر سید طارق جمیل رکھا تھا جس کے بعد رواں سال جنوری میں انہوں نے دوسرے بیٹے کو دنیا میں خوش آمدید کہا تھاتاہم آج ثنا خان پر غم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے کیوں کہ ان کی والدہ علالت کے بعد انہیں داغِ مفارقت دے گئیں۔
اس بارے میں ایک انسٹاگرام اسٹوری میں اطلاع دیتے ہوئے ثنا نے لکھا کہ انا للہ وانا الیہ راجعون، میرے پیاری والدہ مسز سعیدہ خرابی صحت سے نبرد آزما رہنے کے بعد خالق حقیقی سے جاملی ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے دعاؤں کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی دعائیں میری والدہ کے کام آئیں گی، اور نمازِ جنازہ کی تفصیلات شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ نمازِ عشا کے بعد ادا کی جائے گی۔
خیال رہے کہ سال 2009 میں ثنا خان کی والدہ کو برین ہیمبرج ہوا تھا اور وہ طویل عرصے سے صحت کے مسائل کا شکار تھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
ایران جنگ، امریکی اسلحہ ذخائر کی بحالی میں 5 سال لگ سکتے ہیں، سابق پینٹاگون عہدیدار
الجزیرہ سے گفتگو میں مارک کینشین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ان 7 اہم اقسام کے ہتھیاروں میں سے ایک تہائی سے نصف تک استعمال کر لیے ہیں، جو مغربی بحرالکاہل، خصوصاً تائیوان جیسے ممکنہ تنازعات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے سابق پینٹاگون عہدیدار مارک کینشین نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں بڑے پیمانے پر اسلحہ استعمال کیے جانے کے باعث امریکا کو دیگر محاذوں پر سکیورٹی خدشات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ الجزیرہ سے گفتگو میں مارک کینشین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ان 7 اہم اقسام کے ہتھیاروں میں سے ایک تہائی سے نصف تک استعمال کر لیے ہیں، جو مغربی بحرالکاہل، خصوصاً تائیوان جیسے ممکنہ تنازعات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اسلحہ ذخائر کو ایران جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس لانے میں 2 سے 5 سال لگ سکتے ہیں، جس سے اس عرصے کے دوران امریکا کو دیگر ممکنہ تنازعات کی صورت میں ایک کمزوری کی کھڑکی کا سامنا رہے گا۔
مارک کینشین کے مطابق ایران جنگ پر امریکا اب تک 37.5 ارب ڈالرز خرچ کرچکا ہے، جبکہ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اس ہفتے ایران جنگ اور مجموعی فوجی تیاریوں کے لیے مزید 70 ارب ڈالرز کی اضافی فنڈنگ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدید جنگی حکمتِ عملی میں مہنگے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے ساتھ سستے ڈرونز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور دونوں اقسام کے ہتھیار ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ مارک کینشین کے مطابق امریکا کے ڈرون ہتھیاروں میں سمندری ڈرونز بھی شامل ہیں، جو دھماکا خیز مواد سے لیس ریموٹ کنٹرول کشتیاں ہیں اور اطلاعات کے مطابق ایران میں ساحلی اہداف پر حملوں کے لیے استعمال کی جا چکی ہیں۔