ایران اسرائیل جنگ بندی، کیا نیتن یاہو کو شکست کا سامنا کرنا پڑا؟
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
اسرائیل نے چند روز قبل ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا تختہ الٹنے اور ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے کے لیے مختلف حملے کیے، ان حملوں کے جواب میں ایران نے بھی اسرائیل پر میزائل داغے۔ کچھ روز تک جاری رہنے والی جنگ میں امریکا بھی کود پڑا اور ایران کی جوہری صلاحیت ختم کرنے کا دعویٰ کیا۔ ایران نے اس حملے کے جواب میں قطر میں امریکی ایئر بیس کو نشانہ بنایا تاہم اب دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کا اعلان ہوگیا ہے۔
وی نیوز نے دفاعی تجزیہ کاروں سے گفتگو کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا اسرائیل نے اس جنگ کے لیے جو اہداف رکھے تھے وہ حاصل ہوئے یا اسرائیل کو شکست ہوئی؟
یہ بھی پڑھیں ایران اسرائیل جنگ بندی سے پاکستان کی معیشت کو کیسے فائدہ پہنچے گا؟
دفاعی تجزیہ کار مسعود اختر نے کہاکہ اس جنگ میں سب سے بڑی کامیابی ایران کو حاصل ہوئی ہے، کیوں کہ اس نے ایسے وقت میں یہ جنگ جیتی جب پوری دنیا اس کے خلاف تھی، اسرائیل کے ساتھ امریکا، یورپ اور کچھ حد تک عرب ممالک بھی تھے۔
انہوں نے کہاکہ ایران کی کوئی نام والی ایئر فورس تو نہیں تھی لیکن انہوں نے بڑی تعداد میں میزائل بنا رکھے تھے جن کی مدد سے اسرائیل کو نشانہ بنایا۔ ابھی بھی ایران کے پاس 2 سے 3 ہزار ایسے میزائل موجود تھے جن سے وہ اسرائیل اور کچھ عرب ممالک کو مکمل طور پر تباہ کر سکتا تھا لیکن میرے خیال میں ایران اور اسرائیل دونوں نے جنگ بندی کا اعلان کرکے عقلمندی کا مظاہرہ کیا۔ اسرائیل کو جو زیادہ نقصان ہو رہا تھا اس لیے ضروری تھا کہ جنگ بندی ہو۔
مسعود اختر نے کہاکہ مستقبل میں میرا خیال ہے کہ ایران کے لیے اب ایٹم بم بنانا تو بہت مشکل ہو جائے گا البتہ وہ اپنے جوہری پروگرام پر کام جاری رکھے گا، اس جنگ میں ایران نے ثابت کردیا ہے کہ وہ بے شک اکیلا ہو لیکن وہ ہار نہیں مانے گا اور کسی کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے گا۔
انہوں نے کہاکہ ایران اسرائیل جنگ سے دنیا کو ایک سبق ملتا ہے کہ اگر کوئی ملک سمجھتا ہے کہ وہ بہت طاقتور ہے اور وہ کسی بھی ملک پر حملہ کر سکتا ہے تو اسرائیل کی مثال سب کے سامنے ہے، اس وقت دنیا میں بہت سی ایسی چھپی طاقتیں ہیں جو کہ بہت طاقتور ہیں، اس جنگ کے بعد ایران ایک بڑا فاتح بن کے سامنے آیا ہے۔
ماہر بین الاقوامی امور احمد حسن العربی نے کہاکہ اسرائیل نے ایران پر جو حملے کیے تھے اس کا نام ’رائزنگ لائن‘ رکھا یعنی اسرائیل کا مقصد تھا کہ انہوں نے ایران میں رجیم چینج کرنا ہے، اسی لیے انہوں نے ایران کے آرمی چیف، نیوکلیئر چیف اور انٹیلیجنس چیف کو شہید کیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ ایران نے اسرائیل کا جو دنیا میں ایک تاثر بنا ہے کہ اسرائیل کو کوئی شکست نہیں دے سکتا اسے ٹارگٹ کیا، اب جنگ کے بعد اگر دیکھا جائے تو ایران نے اپنے کچھ اہداف حاصل کیے ہیں البتہ اسرائیل کو اس جنگ میں کوئی کامیابی نہیں ملی۔
سینیئر تجزیہ کار حامد میر نے کہاکہ ایران اسرائیل حالیہ جنگ میں ایران کو واضح طور پر فتح ہوئی جبکہ اسرائیل نہ تو ایران کا جوہری پروگرام تباہ کر سکا اور نہ ہی ایران میں رجیم چینج کر سکا، ایران کا 400 کلو یورینیئم اس وقت بھی محفوظ ہے۔
انہوں نے کہاکہ جس وقت ایران پر اسرائیل نے حملوں کا آغاز کیا تو اسرائیل کا خیال تھا کہ نہ تو سعودی عرب کچھ کہے گا، اور نہ پاکستان اعتراض کرے گا۔
حامد میر نے کہاکہ اسرائیل نے شروع میں جو حملے کیے اس سے ایران کو بہت نقصان ہوا لیکن جب ایران نے جوابی حملہ کیا اور حیران کن میزائل اسرائیل میں گرے تو او آئی سی بھی حرکت میں آگئی اور پاکستان اور سعودی عرب سمیت دیگر اسلامی ممالک نے ایران پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی۔
حامد میر نے کہاکہ اسرائیل کا جو ایران میں رجیم چینج کا پروگرام تھا وہ پلان ناکام ہو گیا ہے، رجیم چینج کے لیے اسرائیل کا امیدوار رضا پہلوی تھا اس نے چونکہ کھل کر اسرائیلی حملوں کی سپورٹ کی تھی تو اس وقت اس کو بھی ایران میں عوام سے نفرت مل رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں جنگ بندی کی خلاف ورزی پر اسرائیل اور ایران دونوں سے خوش نہیں ہوں، ڈونلڈ ٹرمپ
انہوں نے کہاکہ اسرائیل کو اس جنگ میں رسوائی حاصل ہوئی ہے، اس وقت ہزاروں اسرائیلی شہری خفیہ راستوں سے فرار ہو چکے ہیں، اسرائیل کی دنیا میں ایک دہشت تھی اور دنیا سمجھتی تھی کہ اسرائیل کی بدمعاشی کو روکنے والا کوئی نہیں ہے تو وہ دہشت اب ختم ہوگئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: نے کہاکہ اسرائیل نے کہاکہ ایران انہوں نے کہاکہ ایران اسرائیل نے کہاکہ اس اسرائیل نے کہ اسرائیل اسرائیل کو اسرائیل کا ایران میں میں ایران رجیم چینج ایران کے نے ایران ایران نے کے لیے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔