کامیابی اور فتح پر ملت ایران اور شہداء کے اہل خانہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں: کمانڈر انچیف پاسداران انقلاب
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر انچیف میجر جنرل پاکپور نے کہا ہے کہ ٹرمپ نے ایران کے خلاف دوبارہ جارحیت کی تو منہ توڑ جواب ملے گا۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ کامیابی اور فتح پر ملت ایران اور شہداء کے اہل خانہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اسرائیل جنگ بندی پر آمادہ ہیں۔
واشنگٹن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایران کی جانب سے جنگ بندی کے 12 گھنٹے بعد اسرائیل جنگ بندی کرے گا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ یہ ایک ایسی جنگ تھی جو برسوں جاری رہ سکتی تھی اور یہ پورے مشرق وسطیٰ کو تباہ کرسکتی تھی، مگر ایسا نہیں ہوا اور اب کبھی نہیں ہوگا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ خدا اسرائیل، ایران، مشرق وسطیٰ، امریکا اور پوری دنیا پر اپنا رحم کرے۔
سینئر ایرانی عہدیدار نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کی تجویز کو قبول کرلیا۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔