Jasarat News:
2026-06-03@03:16:29 GMT

ایران، اسرائیل، عالمی چیلنج

اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

مشرق وسطیٰ، وہ قدیم سرزمین جہاں تہذیبوں نے جنم لیا اور تاریخ نے کروٹیں بدلیں، آج ایک بار پھر شدید اضطراب کی آماج گاہ بنا ہوا ہے۔ یہاں ایک ایسی کشمکش پنپ رہی ہے جو بظاہر فریقین کے درمیان محدود نظر آتی ہے، مگر جس کے شعلے عالمی امن و استحکام کو بھسم کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہم بات کر رہے ہیں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری اس نازک اور خطرناک کشیدگی کی، جس کے تاریک سائے عالمی سیاست، عالمی معیشت اور انسانیت کے مستقبل پر گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ صرف نقشے پر موجود چند لکیروں کے پیچھے چھپا ہوا کوئی علاقائی تنازع نہیں ہے، بلکہ ایک ایسا آتش فشاں ہے جس کا لاوا اگر پھٹ گیا تو پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے، جس کے تباہ کن اثرات سے کوئی بھی ملک محفوظ نہیں رہ سکے گا۔
اس کشمکش کی گہری جڑیں 1979 کے ایرانی انقلاب میں پیوست ہیں۔ وہ انقلاب جس نے ایران میں صدیوں پرانے شاہی نظام کا خاتمہ کیا اور ایک اسلامی جمہوریہ کی بنیاد رکھی، وہی تاریخی لمحہ تھا جب ایران نے کھل کر اسرائیل کو ایک ’’غاصب‘‘ اور ناجائز ریاست قرار دے کر فلسطینی کاز کی بھرپور حمایت کا بیڑا اٹھایا۔ یہ محض ایک سیاسی اعلان نہیں تھا بلکہ ایک گہری نظریاتی بنیاد تھی جس نے وقت کے ساتھ ساتھ دونوں فریقوں کے درمیان ایک ناقابل عبور خلیج پیدا کر دی۔ اسرائیل کے لیے ایران کا تیزی سے بڑھتا ہوا جوہری پروگرام، اس کی جدید میزائل صلاحیتیں، اور لبنان کی حزب اللہ، غزہ کی حماس جیسے علاقائی پراکسیز کی مسلسل حمایت اس کی قومی سلامتی کے لیے براہ راست اور ناقابل قبول خطرہ بن چکی ہے۔ دوسری جانب ایران اسرائیل کو خطے میں امریکی اثر رسوخ کا نمائندہ اور فلسطینیوں کے بنیادی انسانی حقوق کا سب سے بڑا غاصب تصور کرتا ہے، جس سے دشمنی کی آگ مزید بھڑکتی ہے۔
آج کی صورتحال انتہائی پیچیدہ اور ایک پراکسی وار کے خطرناک جال سے بْنی ہوئی ہے۔ عراق، شام، یمن اور لبنان جیسے ممالک طویل عرصے سے اس پراکسی جنگ کا میدان بنے ہوئے ہیں، جہاں دونوں فریق براہ راست فوجی تصادم سے گریز کرتے ہوئے ایک دوسرے کے خلاف بالواسطہ طور پر اپنے اپنے اہداف حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شام میں اسرائیلی فضائی حملے، جن کا مبینہ مقصد ایران کے فوجی اڈوں اور ہتھیاروں کی نقل و حرکت کو روکنا ہوتا ہے، اس پراکسی جنگ کا ایک کھلا ثبوت ہیں۔
یہ تنازع محض علاقائی نہیں بلکہ اس کے عالمی اثرات بھی انتہائی گہرے اور دور رس ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں کسی بھی بڑے فوجی تصادم سے عالمی تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں گی۔ عالمی سپلائی چینز بری طرح متاثر ہوں گی اور متعدد معیشتیں ایک نئے شدید بحران کا شکار ہو سکتی ہیں۔ مالیاتی منڈیوں میں عدم استحکام اور دفاعی اخراجات میں بے پناہ اضافے سے دنیا کا ہر خطہ متاثر ہوگا، ترقی پذیر ممالک پر اس کا بوجھ کہیں زیادہ ہوگا۔ علاقائی استحکام مزید خطرے میں پڑ جائے گا، اور مہاجرین کا ایک نیا بحران جنم لے سکتا ہے جو شام اور یمن جیسے ممالک سے بے گھر ہونے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ کرے گا۔
بین الاقوامی تعلقات کے میدان میں امریکا کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ امریکا، اسرائیل کا ایک دیرینہ اور مضبوط اتحادی ہونے کے ناتے، اس تنازعے میں اپنی پالیسیوں کے ذریعے انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جیسن وِلک جیسے تجزیہ کار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اسرائیل کی طویل مدتی اسٹرٹیجک پوزیشن کا انحصار بڑی حد تک امریکا کے ساتھ اس کے تعلقات پر ہے۔ دوسری جانب، چین اور روس، جو ایران کے اہم اتحادی ہیں، اس صورتحال کو اپنے علاقائی مفادات اور عالمی طاقت کے توازن کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ یورپی یونین اور اقوام متحدہ جیسے ادارے سفارتی حل پر زور دے رہے ہیں، فرانس کے صدر ماکروں نے ایرانی صدر پزشکیان کو مذاکرات کی میز پر آنے کی دعوت دی ہے، اور پوپ لیو چہارم نے بھی دونوں فریقوں سے ذمے داری اور دانش مندی کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے جوہری خطرے سے پاک دنیا کے لیے مخلصانہ مکالمے پر زور دیا ہے، لیکن ان کی کوششیں اکثر بے بسی کی تصویر پیش کرتی ہیں۔
مشرق وسطیٰ کی یہ سلگتی ہوئی کشیدگی پاکستان کے لیے بھی گہرے مضمرات رکھتی ہے، نہ صرف اس کی جغرافیائی قربت اور تاریخی روابط کی وجہ سے بلکہ اس کے اسلامی دنیا اور علاقائی امن میں ایک اہم کردار کے پیش نظر بھی۔ پاکستان، جو ایک جوہری طاقت ہے اور اسلامی دنیا کی دوسری سب سے بڑی آبادی پر مشتمل ہے، ہمیشہ سے خطے میں استحکام اور امن کا خواہاں رہا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان کسی بھی بڑے اور براہ راست فوجی تصادم کی صورت میں، پاکستان پر علاقائی امن کی بحالی اور سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے بین الاقوامی دباؤ میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا۔
جدید دور کی جنگیں اب صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہتیں۔ سائبر سیکورٹی کا میدان بھی اس تنازعے کا ایک اہم اور پوشیدہ حصہ بن چکا ہے جہاں غیر مرئی حملے کیے جا رہے ہیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پر سائبر حملوں کا الزام لگاتے ہیں، جن کا مقصد اہم سرکاری اداروں، بنیادی ڈھانچے اور مواصلاتی نظام کو نشانہ بنانا ہوتا ہے۔ یہ سائبر حملے عالمی نیٹ ورکس اور انفرا اسٹرکچر کے لیے ایک پوشیدہ لیکن انتہائی سنگین خطرہ ہیں، کیونکہ سائبر جنگ کی کوئی جغرافیائی سرحد نہیں ہوتی۔ ان حملوں سے نہ صرف دونوں ممالک بلکہ عالمی مالیاتی نظام اور مواصلاتی نیٹ ورکس بھی شدید خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔
مستقبل کے منظرنامے کی بات کریں تو دو بڑے اور واضح راستے نظر آتے ہیں جن میں سے کوئی ایک رخ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ ایک راستہ سفارت کاری اور مخلصانہ مذاکرات کا ہے، جہاں عالمی برادری کی بھرپور اور نتیجہ خیز کوششوں سے کشیدگی میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ اس کے لیے تمام فریقوں کو لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور مشترکہ مفادات کی خاطر تنازعات کے حل کی طرف بڑھنا ہوگا۔ دوسرا راستہ براہ راست تصادم اور تباہی کا ہے، جہاں ایک وسیع تر جنگ نہ صرف خطے کو بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ اس وقت ایک غلط قدم بھی ناقابل تلافی اور لرزہ خیز نقصان کا باعث بن سکتا ہے، جس کے نتائج شاید نسلوں تک بھگتنا پڑیں۔
آخری بات کہ یہ محض دو ممالک کے درمیان کا جھگڑا نہیں، بلکہ عالمی امن اور پوری انسانیت کے مستقبل کا انتہائی اہم سوال ہے۔ ہمیں اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ نفرت اور تصادم کا راستہ صرف اور صرف تباہی کی طرف لے جاتا ہے، اور اس کا کوئی فاتح نہیں ہوتا۔ عالمی برادری کو، بشمول بڑی طاقتوں اور علاقائی رہنماؤں کو، اس وقت اپنی ذمے داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات اور پرامن حل کی طرف پیش قدمی کرنی ہوگی۔ انسانی جانوں کے تحفظ اور عالمی استحکام کو یقینی بنانا ہماری سب سے بڑی اور اولین اجتماعی ذمے داری ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم سب مل کر اس آتش فشاں کو ٹھنڈا کریں، اس سے پہلے کہ اس کی لپیٹ میں سب آ جائیں اور دنیا ایک نئے بحران کا شکار ہو جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے درمیان براہ راست سکتا ہے رہے ہیں کے لیے کا ایک اور اس

پڑھیں:

ٹرمپ کے بدلتے پینترے

امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔

دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

 ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔

 ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار