وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
فوٹو فائل
وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے جس کے دوران انہوں نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
وزیرِ اعظم ہاؤس کے اعلامیے کے مطابق وزیرِاعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد کو کامیاب حج انتظامات پر مبارک باد پیش کی ہے اور پاکستانی حجاج کرام کی میزبانی پر سعودی حکومت سے اظہارِ تشکر کیا ہے۔
وزیرِاعظم نے پاک بھارت حالیہ کشیدگی کے دوران سعودی حمایت پر شکریہ ادا کیا ہے اور بھارت سے تمام تنازعات پر بامعنی مذاکرات پر آمادگی کا اعادہ کیا ہے۔
اسلام آ باد وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد.
وزیرِاعظم شہباز شریف نے مسئلہ کشمیر، پانی، تجارت اور دہشت گردی جیسے امور پر بات چیت پر زور دیا ہے، ایران اسرائیل تنازع کے فوری خاتمے اور مذاکرات سے حل کی حمایت کی ہے اور عالمی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی پاسداری پر زور دیا ہے۔
وزیرِاعظم نے سعودی عرب کی خود مختاری اور سالمیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے علاقائی امن کے لیے سعودی قیادت کی کوششوں کو سراہا۔
اعلامیے کے مطابق اس موقع پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے وزیرِاعظم شہباز شریف کی یکجہتی پر اظہارِ تشکر کیا ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن کےلیے سعودی عزم کا اعادہ کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اعظم شہباز شریف سعودی ولی عہد کیا ہے ہے اور
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔