Jang News:
2026-06-03@04:16:47 GMT

وزیراعظم شہباز شریف کا امیر قطر سے اظہار یکجہتی

اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT

وزیراعظم شہباز شریف کا امیر قطر سے اظہار یکجہتی

---فائل فوٹو 

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے قطر کے سفیر سے ملاقات میں امیرِ قطر سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے قطر کے سفیر سے ملاقات کی۔

اس دوران انہوں نے کہا کہ گزشتہ شب کے حملوں کے بعد امیرِ قطر اور برادر عوام سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہیں، اپنے قطری بھائیوں، بہنوں اور پورے خطے کے امن و سلامتی کے لیے دعاگو ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو واحد راستہ سمجھتے ہیں۔

اس کے علاوہ وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کے سفیر نواف المالکی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔

وزیراعظم نے قطر میں امریکی فوجی اڈے پر ایرانی میزائل حملے کی رپورٹس پر تشویش کا اظہار کیا۔

قطر میں امریکی اڈے پر ایران نے کونسے میزائل سے حملہ کیا؟

ایرانی خبر ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ قطر اور عراق میں امریکی اڈوں پر ایرانی میزائل سے حملے کیے گئے ہیں۔

اعلامیے کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کی بحالی کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز قبل ایران نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکی فوجی اڈوں پر حملہ کیا تھا۔

ایران کے سرکاری ٹی وی نے تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایرانی میزائلوں نے قطر کے العُدید فوجی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز شریف شہباز شریف نے میں امریکی نے قطر کے

پڑھیں:

متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن

امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔

امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔
 

متعلقہ مضامین

  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ