اسلام آباد میں حال ہی میں مکمل ہونے والا جناح سکوائر منصوبہ پہلی بارش میں ہی بیٹھ گیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون 2025ء ) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں حال ہی میں مکمل ہونے والا جناح سکوائر منصوبہ پہلی بارش میں ہی بیٹھ گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق شہر اقتدار میں کم عرصے میں مکمل ہونے والا جناح سکوائر منصوبہ مون سون کی پہلی بارش بھی برداشت نہ کرسکا اور وفاقی دارالحکومت میں 84 دن میں 4.
(جاری ہے)
معلوم ہوا ہے کہ تین انڈر پاس اس منصوبے کا حصہ تھے جن میں ایک خیابان سہروردی پر اور دو سری نگر ہائی وے پر شامل ہیں اور جس حصے میں گڑھا پڑا وہ سری نگر ہائی وے انڈر پاس کا حصہ ہے جسے شہر میں ٹریفک کی بھیڑ کو کم کرنے کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا گیا تھا، عوامی ردعمل میں بہت سے لوگوں نے سی ڈی اے اور سرکاری افسران پر معیار پر رفتار کو ترجیح دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ منصوبے کو مکمل کرنے میں جلد بازی ناقص تعمیرات کا باعث بنی۔ دوسری طرف اربوں روپے کی لاگت سے تیار ہونے والی اسلام آباد ہائی کورٹ کی نئی بلڈنگ میں بھی بے شمار نقائص سامنے آ رہے ہیں، رات ہونے والی بارش کے بعد عمارت کی ٹپکنے لگیں جس کی وجہ سے ہائی کورٹ کے ایڈمنسٹریشن بلاک اور بائیو میٹرک تصدیق والے کوریڈورز میں بھی پانی جمع ہو گیا، جس کے بعد لفٹس کو بند کر دیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اسلام آباد
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں آندھی اور بارش؛ دیواریں و چھتیں گرنے سے اب تک 2 افراد جاں بحق
پشاور:خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں تیز ہواؤں، آندھی اور بارش کے باعث دیواریں اور چھتیں گرنے سے اب تک دو افراد جاں بحق اور 31 زخمی ہوگئے۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے گزشتہ روز ہونے والی تیز ہواؤں، آندھی اور بارش کے باعث گھروں کی دیواریں اور چھتیں گرنے سے ہونے والے نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی گئی۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز آندھی اور بارش کے باعث آسمانی بجلی اور گھروں کی دیواریں گرنے سے اب تک 2 افراد جاں بحق جبکہ 31 افراد زخمی ہوئے۔ جاں بحق افراد میں دو مرد جبکہ زخمیوں میں 7 خواتین، 16 مرد اور 8 بچے شامل ہیں۔
مزید پڑھیںپشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
پہاڑوں پر برف پگھلنے سے دریائے کمراٹ کے بہاؤ میں اضافہ، صورتحال خطرناک ہونے لگی
حادثات صوبے کے مختلف اضلاع پشاور، چارسدہ، نوشہرہ اور بنوں میں پیش آئے۔ پی ڈی ایم اے، ضلعی انتظامیہ اور تمام متعلقہ ادارے الرٹ ہیں اور آپس میں قریبی رابطہ میں ہیں۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے تمام متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ کو متاثرین کو جلد از جلد ریلیف فراہم کرنے کی ہدایت کر دی گئی۔ بارش اور تیز ہواؤں کا موجودہ سلسلہ 5 جون تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔
پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے عوام کسی بھی معلومات، آگاہی یا کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع 1700 پر دیں۔